تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 193 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 193

۱۹۳ مستعار نہیں لئے بلکہ خالص اسلام کے پیغام کو لے کو ایک طرف پرانے خیالات کے مسلمانوں کی اصلاح کا کام شروع کیا ہے تو دوسری طرف اس پیغام کے ذریعہ عیسائی دنیا اور ہر یوں پر اتمام محبت کر دی ہے۔یہ درست ہے کہ جماعت احمد یہ ساڑھے سینتیس کروڑ مسلمانوں میں ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔اسلام میں ان معنوں میں ORTHODOX اور متحدہ اکثریت موجود ہی نہیں جن معنوں میں کیتھولک عیسائی یہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ اسلام میں تو کیتھولک مذہب کی طرح DOG MAS اندھے عقائد ) موجود ہی نہیں اور نہ ہی اسلام اپنی تعلیمات پر کسی اور کو حکم تسلیم کرتا ہے۔اس کی تعلیم کا ایک ہی مرچشمہ ہے اور وہ ہے قرآن۔جس طرح اصلاح یافتہ عیسائیوں کے نزدیک اُن کی مذہبی کتاب بائیبل ہے اور جس طرح بائیبل کی آیات کی مختلف تشریحات و توضیحات سے متعد و فرقے پیدا ہوئے ہیں جو سب کے سب عیسائی ہی ہیں بعینہ اسی طرح قرآن کی تشریح اور تفسیر سے بھی مختلف و متعدد مکاتیب فکر معرض وجود میں آئے۔لہذا کسی فرقہ کو اسلام سے مخارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔در اصل تجدید و احیاء کی بنیاد پر چرچ اور فرقہ میں فرق اور امتیاز کرنا ہمیشہ سے ہی ایک نہایت مشکل اور نازک مسئلہ رہا ہے مسلمانوں نے کبھی بھی علماء کو حکم نہیں مانا (جس طرح چرچ اور پوپ مذہبی عقائد میں اجارہ داری رکھتے ہیں نہ کہ کتاب، اور پھر دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن جو ایک ہی وجود محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی کتاب ہے بائیبل کی نسبت زیادہ واضح زبان میں بات کرتی ہے۔اور بائیبل کا یہ حال ہے کہ اس میں مختلف لوگوں کی باتوں کو بعد میں جمع کیا گیا ہے۔احمدیت اسلام کی مختلف شکلوں میں سے ایک شکل ہے مگر یہ اسلام کی ایک ایسی ہی صورت ہے جو اسلام کی نمائندگی کرنے کا پورا پورا حق رکھتی ہے۔اس تحریک کو یقیناًا مخالف خیالات رکھنے والے مسلمانوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے مگریہ مخالفت کرنے والے علمی رنگ میں بات کرنے سے تہی اور کیتھولک ذہنیت ہی کے منظر نظر آتے