تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 192
197 احمدیہ اور مسجد بیگ کو ہالینڈ میں اسلام کا نمائید و تصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس جماعت کے پانی پر دوسرے مسلمان کفر کا فتوی لگاتے ہیں۔اس طرح ان کی طرف سے اسلام کی جو تشریح اور توضیح کی جاتی ہے وہ اسلام نہیں کہلا سکتا ہے دوم یہ کہ مسجد بیگ سے مسیح ناصری کے بارہ میں جھوٹا پروپیگینڈا کیا جاتا ہے۔کیونکہ ظاہری طور پر تو یہ کہا جاتا ہے کہ ہم مسلمان بسیج ناصری پر ایمان رکھتے ہیں لیکن در حقیقت ان کا ایمان اس ایمان سے بہت مختلف ہوتا ہے جو عیسائی رکھتے ہیں۔“ اخبار مذکوران اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے :۔پروفیسر ڈاکٹر سہیوبن کا اسلام کے متعلق یہ لکھنا کہ وہ ایک ماہر اور قہار خدا کا تصور پیش کرتا ہے سراسر مغالطہ انگیز ہے۔اور یہ کہنا کہ اسلام میں تجدید و احیاء کی قوت کا فقدان ہے ڈور از حقیقت ہے کیونکہ خود جماعت احمدیہ تجدید و احیای اسلام کا ایک زندہ ثبوت ہے اور شاید اسی لئے وہ عیسائی علماء کے لئے خوف و ہراس کا باعث بنی ہوئی ہے۔کچھ عرصہ ہوا پروفیسر ڈاکٹر کمپیس (CAMPS ) نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا اور اس جماعت کی طرف سے ہوشیار رہنے کی طرف توجہ دلائی تھی؟" آگے چل کر اخبار مذکور نے لکھا ہے کہ :۔" جماعت احمدیہ کی طرف سے اسلام کی تجدید و احیاء کی کوشش اس کی بنیادی تعلیمات یعنی قرآن کریم کے عین مطابق ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کا تصور یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق سے محبت کرنے والا ہے۔یہ جماعت اس تعلیم کے نتیجہ میں بین الاقوامی انتوت کی دعویدار ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس جماعت نے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہنے والے مسلمانوں میں سے پانچ لاکھ کے قریب لوگوں کے قلوب میں تبلیغ و اشاعت اسلام کی روح پھونک کر تبلیغی مساعی کی حقیقی تڑپ پیدا کر دی ہے اور اس جماعت نے عیسائیت یا مارکسزم سے یہ نظریات سے اب الیہ مائیوں کی طرف سے دلائل سے عاجز آکر یہ کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں اختلافات کو ہوا دے کر توجہ ہٹائی جائے خصوصاً جماعت احمدیہ کے متعلق یہ پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے کہ یہ تو مسلمان ہی نہیں یہ اسلام کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں۔گویا یہ عیسائی اسلام کو زیادہ سمجھتے ہیں