تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 182 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 182

TAY آیا تھا وہ ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تھا اور عملاً اب تک ایک لاکھ پچھتر ہزار روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔تحریک جدید کا ریکارڈ کہتا ہے عورتیں ننانوے ہزار روپیہ دے چکی ہیں۔میں نے وکالت مال کے شعبہ بیرون کے انچارج چوہدری شبیر احمد صاحب کو بلایا اور اُن سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ریکارڈ ہے جس سے معلوم ہو کہ جب ہیگ سے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تخمینہ آیا تھا تو میں نے عورتوں سے اس قدر چندہ کرنے کی اجازت دی ہو کیونکہ خورتوں کا حق تھا کہ چندہ لینے سے پہلے اُن سے پوچھ لیا جاتا کہ کیا وہ یہ چندہ دے بھی سکتی ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا افسوس ہے کہ اُس وقت ہم سے غلطی ہوئی اور ہم نے حضور سے دریافت نہ کیا کہ آیا مزید رقم بھی عورتوں سے جمع کی جائے ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں جس کی رو سے زیادہ رقم اکٹھی کرنے کی منظور ی کی گئی ہو۔میں نے کہا ئیں یہ مان لیتا ہوں کہ آپ نے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپیہ کے جمع کرنے کی منظوری مجھ سے نہ لی لیکن جب وہ رقم ایک لاکھ پچھتر ہزار بن گئی تو پھر تو آپ نے مجھ سے منظوری لینی تھی کیا آپ نے مجھ سے منظوری لی۔انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہم نے اس کے متعلق بھی حضور سے کوئی منظوری نہیں لی اور ہمارے پاس کوئی ایسی ایسا کا غذ نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ عورتوں سے ایک لاکھ چونتیس ہزار یا ایک لاکھ پچھتر ہزار روپیہ جمع کرنا منظور ہے۔اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لجنہ اماء اللہ اس سال صرف چھتیس ہزار روپیہ چندہ کر کے تحریک جدید کو دے دے اور باقی روپیہ تحریک جدید خود ادا کرے۔لجنہ اء اللہ چھتیس ہزار روپے سے زیادہ نہیں دے گی اور مسجد ہالینڈ ہمیشہ کے لئے عورتوں کے نام پر ہی رہے گی ؟ لے حضرت مصلح موعودؓ نے تعمیر مسجد بیگ کے لئے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک خاص فرمائی تھی مگر خواتین احمدیت نے اپنے آقا کے حضور ایک لاکھ تینتالیس ہزار چھ سو چونسٹھ روپے کی رقم پیش کر دی بلکہ بعض مستورات تو اس مد کے ختم ہونے کے بعد بھی چندہ بھجواتی رہیں لیے له الفضل ۲۳ تبلیغ / فروری مت سے یہ اعداد و شمار حضرت سیده مریم صدیقہ مصاحبه ۲۱۹۵۸ الله مدظلہ العالی کے مکتوب مورخہ ۲۰- احاد/ اکتوبر من سے ماخوذ ہیں ؟