تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 152
۱۵۲ کے بعد اس وفتر کا ٹائپسٹ جس نے اس توہین آمیز اور مضحکہ خیز گفت گو میں حصہ لیا تھا جنوبی امریکہ گیا۔تین ہفتہ کے اندر اندر ہی مجھے معلوم ہوا کہ وہ بھی خدائی عذاب کا شکار ہو گیا اس دنیا سے کوچ کر گیا ہے۔ایک اور سیکرٹری جس نے اس تو ہین میں کبھی حصہ نہ لیا تھا نیچ و سلامت رہی۔ان واقعات نے میری دنیا یکسر بدل ڈالی میری طبیعت پر قرآن کریم کی صداقت اور حقانیت کا سکہ بیٹھنا شروع ہوا اور اس کتاب کی عظمت کا میرے دل پر گہرا اثر ہوا انہی واقعات نے میری توجہ اسلام کی طرف مبذول کی بیکں نے ان واقعات کا اسلئے بھی ذکر کر دیا ہے تاکہ یہ مخالفین کے لئے محبت کا باعث ہو کہیں۔میں اپنے مولا کریم کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے اس کام کے کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔میں نے ترجمہ کے دوران میں اس مقدس کتاب سے جو روحانی شیرینی اور پرکیف روحانی اثرات حاصل گئے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا۔جو روشنی ئیں نے قرآن کریم سے حاصل کی وہ خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت اور ریت کا نتیجہ ہے اند اتعالیٰ نے میرے ساتھ بالخصوص اپنی رحمت کا سلوک فرمایا۔میں ترجمہ کے دوران قرآن کریم کی صداقت کی دل سے قائل ہو چکی تھی چنانچہ میں نے قرآن شریف سے لگاؤ اور تعلق کو بڑھانے کے لئے لنڈن مسجد میں گاہے گا ہے بجاتا اور احمدیت کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔میرے ساتھ ہر دفعہ برادرانہ اخوت اور محبت کا سلوک کیا گیا اور میری روحانی تشنگی دور کرنے کے سامان مہیا کئے جاتے رہے۔اس محبت اور انغوت بھرے سلوک نے مجھے احمدیت کے بہت ہی قریب کر دیا۔ہالینڈ آنے پر تھوڑے عرصہ میں ہی یہاں مشن قائم ہو گیا۔یہاں تینوں مبلغین نے میری تربیت کے لئے اخلاص اور محنت سے کام کیا، مجھے کتب مطالعہ کے لئے انہوں نے دیں لمبی لمبی دیر تک اپنا قیمتی وقت مجھ پر صرف کرتے رہے۔ان کی مخلصانہ کوشش شوی کی وجہ سے تجھے احمدیت جیسی نعمت ملی۔لیکن ہمیشہ اپنے ان تینوں بھائیوں کی ممنون ہونگی جن کے ہاتھوں میری نجات کے سامان ہوئے " سے اه الفضل ۱۶ تبوک، استمبر ل ص 4 !