تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 144
۱۴۴۴ تھا وہ آپ کا اور آپ کے مشن کا ذکر بڑی دلچسپی سے سنتے رہے۔میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہاں کس قدر کامیاب ہیں۔آپ اور آپ کے سوئٹزرلینڈ میں کا رہائے نمایاں کے لئے اپنے ممنونیت کے جذبات کا اظہار ایک حقیر خدمت ہے جو یکیں بجالاتا ہوں یا لے ری کا ایک قابل ذکر واقعہ صاحبزاده صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وكيل التبشير سوئٹزرلینڈ میں ۶۱۹۶۵ مرزا مبارک احمد صاحب کی سوئٹزرلینڈ میں آمد ہے۔صاحبزادہ صاحب مغربی افریقہ کے تبلیغی دورہ پر تشریف لے جاتے ہوئے ۲۳ ماہ شہادت کو زیورک پہنچے اور ۲۷ ریاہ شہادت تک ٹھہرے آپ کے اس مختصر سے قیام سے نہ صرف سوئٹزرلینڈ کی احمدیہ جماعت کو بہت فائدہ پہنچا بلکہ آپ کی مؤثر گفت گو نے زیر تبلیغ اصحاب اور جماعت سے اخلاص و احترام رکھنے والے دوسرے دوستوں کو بھی بہت متاثر کیا۔صاحبزادہ صاحب دوره مغربی افریقہ سے واپسی پر لندن سے استنبول جاتے ہوئے دوبارہ سوئٹزرلینڈ سے گزرے اور ایک اثر انگیز خطاب فرمایا۔شہ له الفضل ۲۴ شهادت / اپریل م * سے چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے اپنی مفصل رپورٹ میں لکھا:۔۲۲ اپریل کو محترم میاں صاحب کی آمد متوقع تھی چنانچہ استقبال کی ہم تیاری میں مصروف تھے۔۲۳ اپریل کو محترم میاں صاحب کے سیکرٹری مکرم میر مسعود احمد صاحب پہنچے گئے۔ان کے استقبال کے بعد وہ آپ آئے ہی تھے کہ اچانک محترم میاں صاحب بھی غیر متوقع طور پر پروگرام سے ایک دن قبل تشریف لے آئے۔اس اچانک آمد سے بہت خوشی ہوئی معلوم ہوا کہ بعض وجوہ کے باعث پر وگرام میں کچھ تبدیلی کرنی پڑی اور اس لئے ایک دن پہلے پہنچ گئے۔آپ زیورک میں ۲۷ اپریل کی دوپہر تک ٹھہرے۔۲۵ کو آپ کے اعزاز میں عصرانہ دیا گیا۔احباب نجمات کے علاوہ زیر تبلیغ اصحاب اور جماعت سے اخلاص و احترام کا تعلق رکھنے والے دیگر دوست مدعو کئے گئے تھے۔اس موقع پر محترم میاں صاحب کی از حد موثر گفت گو سے حاضرین کے قلوب پر گہرا اثر ہوا۔اس تقریب کے علاوہ ہمارے بعض احباب خصوصاً نو احمدی جلیب احمد سیزش اور پرانے مخلص احمدی عبد الرشید فوگل کو ان کی محبت سے بہت مستفید ہونے کا موقع ملا۔حبیب احمد سینزش نے ۲۹۔دسمبر کو بیعت کی اور میں نے نام حبیب احمد رکھا۔ان کی والدہ نے مخالفت شروع کی میں نے ان کو مدعو کیا اور وہ کافی نرم پڑ گئیں مگر ان کے پادری نے انہیں اُکسایا اور کہا کہ مذہب کی تبدیلی کا سوال (بقیہ حاشہ یہ اگلے صفحہ پر،