تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 145 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 145

۱۴۵ حضرت خلیفة المسیح الثالث الا الہ الا اس ٹرین کی سرزمین کو ایک ہی میں گرستن تا سوئٹزرلینڈ کی ه من الله تعالى حضرت مصلح موعود کے مبارک قدموں نے برکت کا مبارک سفر سوئٹزر لینڈ روم ہوں بخش تو میں اسے حضرت امیر المومنین 71946 خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے خدا نما اور مقدس وجود سے براہِ راست انوار و فیوض حاصل بقیہ حات صفحہ گزشتہ : نہیں لیکن اسلام بھی کوئی مذہب ہے۔یہ تو یورپ کے لوگوں کے لئے قطعاً موزوں نہیں۔یہ قرون وسطی کا مذہب ہے۔ان پادری صاحب نے اس قسم کے مالک سے بھی بات کی جہاں وہ ملازم تھے۔وہ پہلے ہی ایک متعصب کیتھولک تھا اس نے ان کو پندرہ یوم کا نوٹس دے دیا انہوں نے کہا کہ پندرہ یوم کا سوال نہیں لیکن مستقل طور پر ہی فارغ ہوتا ہوں۔اس پر والدین نے اور مخالفت شروع کر دی میں فون کرتا تو حبیب کو بات نہ کرنے دیتے اور خط لکھتا تو اس تک پہنچنے نہ دیتے آخر تنگ آکر ایک دن میں ان کے ہاں گیا۔وہ زیورک سے دور رہتے ہیں۔ان کے گھر پہنچا۔اہلیہ اور یزیم کمیٹی بھی ہمراہ تھے۔یہ ان کی والدہ کے پاس بیٹھے اور مجھے حبیب اپنے کمرہ میں لے گیا۔دیکھا کر سامنے بسم الله الرحمن الرحیم کا کتبہ لگایا ہوا ہے مسجد کی تصویر دیوار پر آویزاں ہے اور عید کا دعوتی کارڈ بھی رینیت کے طور پر لگا ہوا ہے۔اس نے بتایا کہ کسی طرح اس کی مخالفت ہو رہی ہے اور یہ کہ وہ اللہ کے فضل سے اسلام پر قائم ہے۔لیکں نے آئندہ کے لئے ایک ترک دوست کی معرفت ڈاک بھیجوانے کا انتظام کیا ہو اس کو ہدایت کی کہ وہ خود مجھے گاہے بگاہ ہے فون کر لیا کرے۔یہ نوجوان کئی گھنٹے محترم میاں صاحب کے ساتھ رہے۔ہمارے ایک دوست جو پشاور یونیورسٹی میں لیکچرار تھے اور اب یہاں ڈاکٹریٹ کر رہے میں استقبالیہ تقریب سے اس قدر متاثر ہوئے کہ محترم میاں صاحب کے اعزاز میں اپنے ہاں عشائیہ کا اہتمام فرمایا۔محترم میاں صاحب انہیں اور باقی حاضرین کو لطیف انداز میں جماعت کی اسلامی خدمات بتاتے رہے۔محترم میاں صاحب نے یہ ارادہ ظاہر فرمایا کہ واپسی پر ہفتہ عشرہ قیام کرسکیں گے چنانچہ اس امید پر کہ جلد ہی پھر ملاقات ہوگی ۲۷ اپریل کو انہیں الوداع کہا۔واپسی کے لئے مختلف تقاریب کا پروگرام زیر غور تھا کہ فون پر لندن سے معلوم ہوا کہ وہ تو ار جون کی شب کو پہنچیں گے اور ے جون کو پونے دو بجے کے جہاز پر استنبول کو روانہ ہو جائیں گے یہاں نے اپنے خاص دوستوں کو فون پر اطلاع دی سائیر پورٹ پر محترم میاں صاحب کے استقبال کے لئے خاکسار بعض احباب کے ساتھ موجود تھا۔ہمارے نو احمدی بھائی ضیاء اللہ مایر (MEIER ) نے جماعت کی مان سے گلدستہ پیش کیا۔ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جو اپنے رنگ میں فروعی تھا۔میں نے اپنے مختلف طبقات کے احباب کو تھوڑا تھوڑا وقت دیا کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں اور بعد میں محترم میاں صاحب نے تقریر فرمائی کی الفضل (۲۴-۲۵ ) و فار جولائی ) 71940