تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 142 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 142

۱۴۲ (۲) ایک ترک دوست قهرمان تو نا بلو نے کہا :- مجھے سوئٹزر لینڈ میں رہتے پانچ سال ہو گئے ہیں۔میرے لئے اپنے والدین اور وطن عزیز سے دور رہنا بڑا مشکل تھا۔اپنے والدین اور وطن سے دوری کو والدین، عزیزوں اور دوستوں سے خط و کتابت کم کر دیتی لیکن ایک مسجد کی آرزو جہاں تمام مسلمان جمع ہوسکیں کی تکمیل کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔اللہ کا شکر ہے کہ ۲۲ جون ۱۹۶۳ء کو جماعت احمدیہ کی اس مسجد کی تعمیر مکمل ہوگئی، آب تمام ترک اور دوسرے مسلمان یہاں جمع ہو سکتے اور نمازیں ادا کر سکتے ہیں۔ہمارے امام کے پر اثر خطبات اور تشریحات نہ صرف میرے نئے بلکہ بہت سے ترک احباب کے لئے بہت محمد ثابت ہوتے ہیں۔مجھے یہ بھی ذکر کرنا ہے کہ قرآن مجید کے تراجم اور ایسا ہی اور بہت سی کتب کے تراجم مثلاً دنیا چہ تفسیر القرآن کا ترکی زبان میں ترجمہ ہمارے لئے بہت ہی قابل قدر ہے۔یہاں ہماری یہ سجد ہمیں قلبی سکون اور مسترت بخشتی ہے اور پھر ہم خوش ہیں کہ اسلام کا نور دور دراز علاقوں میں پھیلتا اور روشن سے روشن تر ہوتا جا رہا ہے نہ (۳) سوئٹزرلینڈ کے ایک کیتھولک دوست مسٹر فرودن فرمولا نے مسجد کی اہمیت و عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا :- ہم اسے خوش قسمتی تصور کرتے ہیں کہ اس مسجد کی تعمیر سے ایک ایسا مرکز قائم ہو گیا جو نہ صرف وسطی یورپ کے مسلمانوں کے لئے مقام اجتماع ہے بلکہ غیر مسلوں کے لئے بھی مذہبی تبادلۂ خیالات کے لئے ایک ادارہ کا کام دیتا ہے۔اس سے باہمی مفاہمت کو فروغ حاصل ہوتا ہے مسجد محمود کی شہرت نے ہر جگہ بڑی کشش پیدا کی ہے۔در حقیقت یہاں پر نہ صرف زیورک بلکہ سوئٹزر لینڈ کے مختلف حصوں اور ہمسایہ ممالک جرمنی اور آسٹریا سے لوگ آتے ہیں۔کچھ چھوٹے چھوٹے گروپ تعلیم عربی کے حصول اور قرآن و بائبل کے موازنہ اور تاریخ وادب سے بہتر واقفیت زیورک کی فیڈرل یونیورسٹی کے ایم ایس سی ! بعد ان دنوں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لئے سوئٹزر لینڈ میں مقیم تھے سے سے ایک ممتاز الیکٹریکل انجینیئر بے ترجمه الفضل ۲۵ و فار جولائی F1940