تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 141 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 141

۱۴۱ مسجد محمود کی تعمیر سے ملک میں اسلام اور احمدیت کی شہرت دور دور مسجد محمود کے ملک گیر تک پھیل چکی ہے اور اس کے ملک گیر اثرات و برکات روز بروز اثرات و برکات نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔اس سلسلہ میں بعض ممتاز شخصیتوں کے تاثرات ملاحظہ ہوں۔(1) ڈاکٹر محمد عزالدین حسن البانوی نشہ ہو نے ایک تقریب سعید پر جو صا حبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کے اعزاز میں منعقد کی گئی مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار فرمایا :- ساری دنیا میں احمدیت اسلام کی علمبردار ہے اور اس نے آپ تک بہت کچھ حاصل کر لیا ہے۔قبل ازیں عثمانی سلطنت کے دور میں اسلامی دنیا میں ترکی ایک نمایاں حیثیت رکھتا تھا اور ترکی کی ہر چھوٹی بڑی سفارت کے ساتھ ایک مسلمان عالم ہوتا تھا جو اس ملک میں مسلمانوں کی ضروریات کا خیال رکھتا تھا۔بدقسمتی سے پہلی جنگ عظیم کے بعد یہ دستور عموما مسلمان حکومتوں نے ترک کر دیا۔اب یہ جماعت احمدیہ کی بڑی خوبی ہے کہ اس نے پیش قدمی کی اور وہ ہر جگہ اسلام کے مراکز قائم کر رہی ہے۔بہت سے ممالک میں مسلمان اقلیتوں کے لئے یہ مساعی بہت خوش گئی ہے۔زیورک میں اس مسجد کی تعمیر احمدیت کی مساعی کی ایک روشن مثال ہے اس کی اہمیت کا اظہار مسلمانوں کی بڑی تعداد سے ہوتا ہے جو عیدین پر یہاں جمع ہوتے ہیں یہاں پر تیم مسلمانوں کے بچوں کی تعلیم کا بھی جماعت نے بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔جماعت کا ایک اور بڑا کام قرآن کریم کے بہت سی زبانوں میں تراجم ہے اور حال ہی میں قرآن کریم کے یہ قرا تم ان ممالک میں جہاں کی زبان عربی نہیں ہے مذہبی تعلیم کے حصول کے لئے بڑی قیمت رکھتے ہیں۔امید کی جاتی ہے کہ باقی مسلمان بھی احمدیوں کا اپنے معتقدات پر عمل اور سلمان بھائیوں کی امداد کی مثال کی تقلید کریں گے " سے اے ڈاکٹر صاحب ایک مسلم انجنیر ہیں جن کا خاندان پہلی جنگ عظیم میں سقوط ترکی کے بعد یورپ اور تقریبیں آباد ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب خود سولیس شہری ہیں۔پانچے زبانیں بول سکتے ہیں اور ملک کے مختلف طبقوں میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ؟ له الفضل ۲۵ ، وفار جولائی ۳ مت۔