تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 134 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 134

۱۳۴ یه مسجد قریبا نوماہ میں مکمل ہوئی ، ابھی اس کے مینار بھی مسجد کی تکمیل اور اخبارات میں جو پہلے پوری طرح نہیں بنے تھے کہ ولی اخبارات کی دلچسپی کا چرچا سوئیس خصوصی مرکز بن گئی چنانچہ زیورک کے وقیع روزنامہ MEA ZURCHER - ZEITING نے جو نہ صرف سوئٹزرلینڈ میں بلکہ جرمنی اور آسٹریا میں بھی بکثرت پڑھا جاتا ہے ، ار اپریل 1973ء کے پرچہ میں گر جا کے خاکستری لیکن بہت اونچے مینار کے ساتھ مسجد کے مینار کی تصویر شائع کی اور اس کے ساتھ حسب ذیل ٹوٹے بھی سپر و قلم کیا :- جب کوئی شخص مختلف دیار و امصار میں سیاحت کے بعد اپنے وطن واپس آتا ہے تو وہ ان چیزوں کو خصوصاً دیکھتا ہے جن سے ہمارے اس شہر کو عظمت حاصل ہوتی ہے اور دیکھنے والے کے سامنے ایک نیا منظر آتا ہے۔عام خاکستری پتھروں کی عمارتوں کے درمیان۔عین بالگریسٹ (BALGRIST) کے گھر جا کے بالمقابل سوئٹزرلینڈ کی اولین مسجد کا چھوٹا سا مینار جو تقریباً مکمل ہو چکا ہے سفید چمکتا نظر آتا ہے۔ایک اجنبی ہمارے گھروں کے اندر گھونسلا بناتا ہے اور ہمیں اس کا احساس ہوتا ہے۔(ترجمہ) زیورک کے اس اخبار کے علاوہ بازل ، برکی، باؤن ، ارآڈر وغیرہ کے جرمن زبان کے اخبارات میں سفید مینار کی تصویر کے ساتھ نوٹ شائع ہوئے۔ایک تراشہ سے جو آسٹریا کے اخبار کا ہے معلوم ہوتا ہے قریبی ملکوں میں بھی یہ امر بچسپی کا موجب ہوا۔فرانسیسی زبان کے جینیوا کے مشہور اخبارٹریوں نے بھی مینار کی تصویر اپنے نوٹ کے ساتھ شائع کی۔بازل کے اخبار" NATIONAL - ZEITUNG مورخہ 19 اپریل ۱۹۶۳ کے نوٹ کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے :- را سوئٹزرلینڈ میں مذہبی آزادی مختلف مذہبی جماعتوں کو پنپنے کا موقع دیتی ہے۔سوئٹزرلینڈ کی پہلی مسجد زیورک میں پائیہ تکمیل کو پہنچ رہی ہے۔احمدیہ شن جس کا مرکز مغربی پاکستان میں ہے اس مسجد سے اپنے خطبات شنایا کرے گا۔ہماری تصویر میں مسجد کا نفیس مینارہ جس کے اوپر تر کی اندانہ کا ہلال ہے تو رخ میٹرک زیورک پر نظر آرہا ہے۔تے مورخہ 3 مئی ۱۹۶۳ء کو جب مینار کے علاوہ مسجد کی عمارت پر بھی پینٹ ہو چکا تھا یورک کے مشہور مسجد سوئٹزرلینڈ کا مینار قریباً 4 فٹ بلند ہے؟ کے الفصل ۱ ہجرت رمئی ۲۲ ۲۳۰