تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 133
۱۳۳ و نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے۔اس طرح سے یہ لوگ بائبل کے مندرجات اور عیسائی معتقدات کے بارہ میں نئی تو جیہات پیش کر کے ناقص علم رکھنے والے سامعین اور قارئین کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جرمن زبان میں ان کی جو مطبوعات شائع ہوئی ہیں اُن میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام میں زمانہ حال کے بعد ید مسائل کا پورا اصل موجود ہے اور اسلام ہی انسانی ضرورتوں کے مناسب حال وہ اکیلا مذہب ہے جو وسعت فکر، تعمیر و ترقی اور آزاد خیالی کا علمبردار ہے۔اپنے اس دعوئی کے ثبوت میں انہیں اسلامی روایات کی نئی تشریح کرنی پڑتی ہے۔جرمنی میں سلم طلبہ کو یہ بجھایا جاتا ہے کہ کسی کا مسلمان ہونا ہر لحاظ سے بہتر اور اعلیٰ و افضل ہے۔اسی طرح اُن پر واضح کیا جاتا ہے کہ تقدیر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مستقبل میں جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ پہلے سے طے شدہ ہے اور یہ کہ مستقبل کے بارہ میں نہیں چنداں فکر پالنے کی ضرورت نہیں۔تقدیر کا یہ مفہوم ہرگز درست نہیں ہے۔تقدیر کا عقیدہ نہ صرف یہ کہ سرگرمی اور جد وجہد سے منع نہیں کرتا بلکہ یہ بذات خود نسبتا زیادہ سرگرمی اور جد و جہد کا متحمل ہے۔جماعت احمدیہ نے قرآن مجید کا جو جر من ترجمہ شائع کیا ہے اس کے شروع میں ایک دینا ہے بھی درج کیا گیا ہے یہ دیبا پھر اپنے مندرجات کی رو سے بائیل اور عیسائیت کے خلاف ایک بھر پور حملہ کی حیثیت رکھتا ہے۔قرآن مجید کے ترجمہ میں الفاظ کے انتخاب کا خاص خیال رکھ کر یورپی دماغوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس لئے اس میں لفظی ترجمہ پر اکتفا نہیں کیا گیا۔اس کے باوجود اس میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ عربی زبان ہی ایک ایسی زبان ہے جو گوناگوں اور باریک در بار یک معانی و مطالب کے اظہار پر پوری قدرت رکھتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم اسلام قبول کریں تو ساتھ ہی ہمیں عرب ثقافت کو بھی قبول کرنا ہوگا۔اس لحاظ سے ایک ایسا مسلمان جو عربی نہ جانتا ہو صحیح معنوں میں پورا مسلمان نہیں ہوں سکتا۔اندریں حالات یورپ میں ان اسلامی مشنوں کا مقصد مشتبہ اور ناقابل یقین نظر آنے لگتا ہے۔تاہم اگر یہ لوگ افریقہ میں ہی اپنے پاؤں جمانے کی کوشش کریں تو یہ بات قرین قیاس ہوتے ہوئے سمجھ میں آسکتی ہے " سے ے ترجمہ بحوالہ رسالہ انصار الله" ربوہ نبوت / نومبر ها صفحه ۲۲ تا ۲۴ + ۶۱۹۹۷