تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 122 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 122

۱۲۲ پر مدد فرمائی اور نہایت نامساعد حالات میں ایک گرجا گھر کے سامنے نہایت با موقع قطعہ زمین کا انتظام ہو گیا ہے قطعہ زمین کے انتظامات کے ابتدائی مراحل طے کرنے کے بعد ماہ شہادت / اپریل میں بلڈنگ پرمٹ کی درخواست دی گئی جو تعمیر کے پروگرام میں مشکل ترین مرحلہ تھا۔یہ مرحلہ کی طرح اس کی تفصیل شیخ صاحب موصوف کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے لکھتے ہیں۔پہلے ایک اعلان گزٹ میں شائع ہوتا ہے تا اعتراض کرنے والے اپنے اعتراض کورٹ میں پیش کریں اس کے بعد ایک محکمہ سے دوسرے محکمہ میں فائلیں جاتی اور باریک نکتہ چینی اور جرح قدح ہوتی ہے جس پر کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔استثنائی حالات میں معاملہ بالائی حکومت کے پاس بھی جاتا ہے۔خاکسار نے ہر مرحلہ پر اپنی درخواست کا جائزہ لیا اور قدم قدم پر افسران سے ملالہ آرکیٹیکٹوں، کارپوریشن کے محکمہ جائداد والوں تعمیر کے حکم کے افسران غرض ہرقسم کے اراکین کے ساتھ قدم قدم پر تعلق قائم رکھا معاہدہ کی رو سے مسجد کی تعمیر کا کام سمیر نشدم تک ایک خاص مرحلہ پر پہنچ جانا چاہیئے۔۔۔ایک مرحلہ پر چرچ والوں نے بھی مداخلت کی اور حکومت کو لکھا کہ ان لوگوں کو مسجد نہ بنانے دی جائے کیونکہ اسی جگہ ایک چرچ بھی ہے حکومت نے چرچ کی اس درخواست کو رد کر دیا ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ بالخصوص اعلیٰ متمام سے مفید رنگ میں ملنے کی توفیق ملی اور چرچ کی مخالفت بے ثمر رہی ہے جس طرح قطعہ زمین کے حصول کی سعادت محترم جناب شیخ قطعہ زمین پر کھدائی اور دعا نام احمد صاحب کے حصہ میں آئی اسی طرح اس پرتھی مسجد کے جملہ انتظامات سوئٹزرلینڈ مشن کے دوسرے انچارج اور مجاہد تحریک جدید محترم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کی زیر نگرانی پائیہ تکمیل کو پہنچے جو مرکز کے حکم سے مار کے آغاز میں لنڈن سے سویٹزرلینڈ S1947 تشریف لے گئے اور وہاں اب تک خدمات دینیہ بجالا ر ہے ہیں۔چودھری صاحب نے اس وفار جولائی کوئیل ڈوزر کے ذریعہ کھدائی کا کام شروع کرایا۔کھدائی سے پہلے جماعت احمدیہ زیو پرت نے اجتماعی دعا کی کہ للہ تعالی مسجد کی تعمیر کو بابرکت فرمائے اور یہ سوئٹزرلینڈ میں اشاعت و غلبہ اسلام کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہو سکے الفضل ، وفار جولائی مد و در حیرت می و له الفضل ۱۲۵ ظهور است من له الفضل دار ظهور در بزرگه 31904