تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 118
||A ہمارے مقابلہ کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں۔ضمنی طور پر یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری کمزور کوششوں کی فوقیت اور اللہ کا اعتراف بھی ہے۔گذشتہ دنوں ایک مشہور اخبار میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان ایک بحث کا سیلسلہ چل پڑا ہمارے لئے اس مباحثہ میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک مضمون نگار نے لکھا کہ اسلام اس قدر سرعت سے آگے بڑھ رہا ہے اور اب اس ملک میں بھی قدم جما چکا ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اندرونی اختلافات کو بھلا کر اس بیرونی خطرہ کا مقابلہ کریں۔اس رپورٹ کی تیاری کے دوران میں اطلاع ملی ہے کہ ایک کتاب اسلام کے تعلق ایک مخالف نے شائع کی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اسلام کا چرچا اس قدر پڑھتا جاتا ہے کہ عوام کو اس کی اصل تعلیم سے آگاہ کرنا ضروری ہے یا سے ویٹزرلینڈ کے علمی طبقوں میں ۱۳۳۸۰ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں سوئیس کے علمی حلقوں میں اسلام کا خوب چرچا ہوا۔چنانچہ شیخ ناصر احمد صاحب اسلام کا عام چرچ نے لکھا۔ان دنوں سوئٹزر لینڈ میں مختلف مواقع پر اسلام پر لیکچر ہورہے ہیں۔اخبارات میں مضامین بھی آئے دن چھپتے رہتے ہیں۔در اصل ہماری تحریک پر ہی زیورک کی یونیورسٹی میں ایک سلسلہ تاریر کا جاری ہوا جس میں ایک پروفیسر نے اسلام کو لیکچر دئے۔احمدیت کا ذکر بھی کیا۔آخری لیکچر کے دن ہم نے ایک اشتہار سائیکل سٹائل کر کے سامعین تقسیم کیا اور انہیں دعوت دی کہ اسلام پر مزید معلومات ہم سے حاصل کریں اور رسالہ اسلام طلب کریں۔چنانچہ اس پر بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے اس غرض کے لئے ہمیں بھجوائے۔یوں ریڈیو پر بھی چند مہینوں سے ایک سلسلہ لیکچروں کا شروع ہے جس کا عنوان ہے اسلام اور مغرب۔اس پروگرام میں حصہ لینے والوں نے بعض دفعہ اسلام کے بارہ میں بہت اچھی باتیں کہی ہیں۔ایک دفعہ ایک صاحب نے احمدیہ جماعت کی تبلیغی مساعی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صرف ایک ہی تنظیم ایسی ہے جو اسلام کی تبلیغ کا کام کر رہی ہے۔یہ لوگ تربیت یافتہ الفضل ٣٠ نبوت / نومبر A 35941