تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 115 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 115

110 ایسی قوت سے جو سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ایک ایسی خواہش جو تین صدیوں تک دبی رہی اچانک شعلہ بن کر یورپ کے ثقافتی حلقوں کو متاثر کرنے کے عزیم میم میں تبدیل ہوچکی ہے تا کہ مسلمان قرآن اور ملال کے لئے موجودہ ترقی یافتہ تبلیغی کام کے ذریعہ نئے آفاق تلاش کر سکیں۔اسلام عرصہ سے اپنی اشاعت کے اس نئے جوش اور نئے ولولہ کی وجہ سے یورپ کو اپنی کوششوں کا مرکز قرار دے چکا ہے اور محض یہی نہیں بلکہ اپنے قدموں کو مضبوطی سے جما رہا ہے۔اگر کوئی اس حقیقت کو خوش فہمی سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرے تو اسے ان حقائق پر غور کرنا چاہیئے۔زیورک میں چند سالوں سے ایک اسلامی تبلیغی مرکز قائم ہے جود اپنا رسالہ خود شائع کرتا ہے۔اور جو اپنے لیکچروں اور خطبات کے ذریعہ سوئٹزر لینڈ کی ہر سوسائٹی اور ایسوسی ایشن سے ہر ممکن تعلق پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔وہ اسلامی لٹریچر کی سرگرم اشاعت کے کسی موقع کو ضائع نہیں ہونے دیتا، خاص طور پر نوجوانوں میں ایسے مواقع کو کسی صورت میں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔زیورک کا یہ اسلامی مرکز کسی لحاظ سے بھی ایک الگ تھلگ کوشش نہیں بلکہ ایک بہت بڑی منظم سکیم کی ایک شاخ ہے۔اب ہر ایک شخص کو یہ حقیقت مد نظر رکھنی پڑے گی کہ شرخ دیو آہنی پردے کے پیچھے آڑلئے بیٹھا ہے اور وہ اپنی تمام ترطا قتوں کو مجتمع کئے ہوئے منتظر ہے کہ کب اسے موقع میسر آئے اور وہ مغرب کا گلا گھونٹنے کے لئے میدان میں آئے۔اس اثناء میں اسلام بھی یورپ کا مقابلہ کرنے کے لئے نہایت اطمینانی کیساتھ پیش قدمی کر رہا ہے مگر اس کی پیش قدمی اس کی محتاط ، محرک اور مؤثر قوت کے ساتھ ہے جو اس کا خاصہ ہے۔" شد F1971 ١٣٠ ہ میں سوئٹزرلینڈ کے مخالف اسلام طبقے کیا سوچ رہے تھے اور کیا کر رہے تھے؟ اس کا نقشه شیخ ناصر احمد صاحب نے اپنی ماہ تبوک استبر اللہ کی رپورٹ میں بایں الفاظ کھینچا۔مخالفینی کے حلقہ میں سے ایک شخص نے گمنام خط لکھا کہ اپنا بستر بوریا باندھ کر واپس پہلے جھاؤ اور پھر د کوٹو ایک رسالہ میں ہمارے ایک مضمون پر کڑی تنقید شائع ہوئی لیکی له ترجمه بحوالہ مغرب کے افق پر صفحہ ۲۹ - ۳۰ به