تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 116 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 116

۱۱۶ مضمون نگار نے بات کو محض بگاڑ کر پیش کیا اور لوگوں کو ہمارے خلاف، اُبھارنا چاہا ہم نے مختصر رنگ میں اس کا جواب دیا۔ان ہی دونوں خاکسار کو پولیس والوں نے ایک بیان کے لئے بلایا اور مضمون مذکورہ بالا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں لوگوں کے مذہبی جذبات کا خیال رکھنا چاہئیے خاکسار نے انہیں جوابا کہا کہ ہمیں اس امر سے سخت حیرت ہے کہ اس مضمون میں جو اسلام میں خدا تعالیٰ کے تصور کے موضوع پر لکھا گیا ہے کسی صحیح الدماغ انسان کو کوئی اعتراض ہوسکتا ہے خاکسار کے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ پولیس افسر نے ہمارے مضمون کو خود پڑھا تک نہ تھا۔لہذا خاکسار نے مناسب سمجھا کہ انہیں نفسِ مضمون سے آگاہ کر دیا جائے چنانچہ خاکسار نے بتایا کہ ہم نے مضمون دیکھا ہے کہ اسلام میں مندا صرف ایک وجود ہے جس کا نہ بیٹا ہے نہ بیوی۔خدا تعالیٰ کا یہ تصور عیسائیت کے تصور تثلیث سے بالکل مختلف ہے۔شاید ایک عیسائی توحید باری تعالٰی کے تصور کو نہ سمجھ سکے لیکن ہم مسلمان تثلیث کو نہ میں سمجھ سکتے نہ ہی خدا تعالٰی کی عبادت میں کسی کو شریک کر سکتے ہیں۔ہمارے نزدیک مشکل یا مصیبت کے اظہار کے وقت ایسور ع خدا پکار نا خدا تعالٰی کی شان کے خلاف ہے۔نہ ہی ہم اہنیت کے قائل ہیں نہ ہی صلیبی موت کے۔اسلام کے خدا کو کسی عدد کی حاجت نہیں وہ کسی کام کو کرنے پر مجبور نہیں وغیرہ۔اس پر پولیس افسر نے کہا کہ آپ کو یہ سب باتیں کہنے کا حق ہے اور یہ مذہبی آزادی کے عین مطابق ہے۔خاکسار نے کہا کہ آپ کے نز دیک مخالف مضمون نگار نے کوئی معقول بات بھی پیشیں کی ہے یا صرف جذباتی طور پر ہمارے خلاف لوگوں کو اُبھارا ہے۔اُس نے جواب دیا کہ اس کے نزدیک بھی مضمون متعلقہ کو جرنلزم سے کوئی تعلق نہیں۔خاکسار نے کہا کہ اگر اس قسم کے لیے ضر مضمون پر بھی اعتراض ہو سکتا ہے تو پھر اسلام کی تبلیغ ہی بند کر دینی چاہئیے۔قرآن کریم کی اشاعت ممنوع قرار دینی چاہیئے بلکہ ہر بات جو موجودہ چرچ کے خلاف ہے اسے حکماً روک دینا چاہیئے لیکن پھر ملک میں مذہبی آزادی نہیں رہے گی بلکہ مسلمان تو الگ رہے یہودیوں کو بھی خلاف قانون قرار دینا پڑے گا کیونکہ مسلمان تو بہر حال حضرت شیخ کی عزت کرتا اور انہیں خدا تعالیٰ کا نبی مانتا ہے برعکس اس کے یہودی آپ کو نعوذ باللہ کذاب اور ملعون سمجھتے ہیں۔خاکسار