تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 109
1۔4 ذیل رائے تحریر کی :- " أَمَا التَّرْجَمَةُ نَفْسُهَا فَقَدْ اخْتَبَرتُها فِي مَوَاضِعَ مُخْتَلِفَةٍ وَفِي كَثِيرٍ مِنَ الْآيَاتِ فِي مُخْتَلَفِ السُّورَ فَوَجَدْتُهَا مِنْ خَيْرِ التَّرْجَمَاتِ الَّتِي ظَهَرَتْ لِلْقُرانِ الْكَرِيمِ فِي أَسْلُوبِ دَقِيةٍ مُختَالٍ وَ مُحَاوَلَةٍ بَارِعَةٍ لِأَدَاءِ المعنى الذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ التَّعْبِيرَ الْعَرَبِيُّ الْمُنَزِّلَ لِآيَاتِ الْقُرْآنِ الْكَرِيم له یعنی جہاں تک ترجمہ کا تعلق ہے میں نے مختلف مقامات اور مختلف سورتوں کی بہت سی آیات کا رجم بنظر غائر دیکھا ہے۔میں نے اس ترجمہ کو قرآن مجید کے جملہ تراجم سے جو اس وقت منصہ شہود پر آچکے ہیں بہترین پایا ہے۔اس ترجمہ کا اسلوب نہایت محتاط علمی رنگ لئے ہوئے ہے۔باریک بینی کو مد نظر رکھنا گیا ہے اور معانی قرآن کی ادائیگی میں انتہائی علمی قابلیت کا اظہار کیا گیا ہے تاکہ عربی میں نازل شدہ قرآنی آیات کی کماحقہ ترجمانی ہو سکے۔سے سوئٹرزلینڈ مشن کو اپنی زندگی کے نویں سال یہ دائمی فخر نصیب حضرت سیدنا المصلح الموعود کا ہوا کہ حضرت سید نا المصلح الموعود جب دوسری بار یورپ زیور میں ورود سعود تشریف لے گئے تو حضور زیورج (سوئٹزرلینڈ میں بھی 9 ماہ ہجرت رمئی سے ۱۰ ماه احسان جون تک جلوہ افروز رہے حضور کی رہائش سے تعلق جملہ انتظارنا کی سعادت شیخ ناصر احمد صاحب کے حصہ میں آئی جس پر حضور نے درج ذیل الفاظ میں بذریعہ تار اظهار خوشنودی فرما یا کہ : " ہم خدا کے فضل سے اہل و عیال کے ساتھ بغیریت پہنچ گئے ہیں جنیوا سے آگے تمام انتظامات شیخ ناصر احمد ( مبلغ سلسلہ نے کئے تھے جو کہ بہت عمدہ تھے۔شروع میں تازہ روغن ہونے کی وجہ سے کچھ تکلیف ہوئی لیکن چند گھنٹے کے بعد یہ تکلیف رفع مجلة الازهر فروری 2 11469۔+ S بحواله الفضل ۳۱ امان / پایه