تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 105 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 105

1۔0 ہیں۔اس جماعت نے حال ہی میں قرآن کریم کا ترجمہ جرمن زبان میں شائع کیا ہے۔یہ ترجمہ پہلا نہیں بلکہ اسکی خوبی یہ ہے کہ اسے ایک اسلامی جماعت نے خود اپنے زیر اہتمام شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے اور جرمن ترجمہ کے ساتھ عربی متن بھی دیا گیا ہے۔احمد یہ جماعت کی بنیا د حضرت میرزا غلام احمد صاحب (علیہ الصلواۃ ( والسلام) نے ۱۸۸۰ء میں رکھی جو ۱۸۳۵ء میں قادیان میں پیدا ہوئے۔انہوں نے دعوی کیا کہ وہ چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق چودھویں صدی کے سر پر بطور مسیح اور محمدی ظاہر ہوتے ہیں وہ ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے اور ۱۹۱۴ء سے حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جماعت کے دوسرے خلیفہ اور امام ہیں۔اس ترجمہ قرآن کریم کا دیباچہ انہی کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔اس دیباچہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسلام سے پہلے مذاہب وقتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے آئے تھے لیکی حضرت نبی کریم اور اسلام کے ذریعہ مذہب کی تکمیل ہوئی۔مثال کے طور پر حضرت کیسے صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو اکٹھا کرنے آئے تھے۔گو ان کے حواریوں نے بعد میں دوسروں کو تبلیغ کرنی بھی شروع کی لیکن محضرت مسیح کا پریشن نہ تھا کیونکہ متی شام میں صاف لکھا ہے :- میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم اسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر میکو گے جب تک کہ ابن آدم نہ آئے گا یہ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے ذریعہ اسلام سے پہلے قائم شدہ مذاہب کے اختلافات کو دور کیا گیا جو وقتی اور قومی تعلیموں کی وجہ سے پیدا ہو گئے تھے۔پس گزشتہ مذاہب کا اختلاف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ دنیا کو متحد کرنے والی آخری تعلیم کے دستہ ہیں روک نہیں بلکہ ان کا وجود ہی ایک ایسی عالمگیر اور کا ہا تعلیم کا متقاضی ہے۔حمد نامہ قدیم انسانی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اس میں تناقضات اور اختلافات موجود ہیں اور اس میں مصنف نے اپنے خیالات کو بھی درج کر دیا ہے۔پھر عہد نامہ قدیم میں ظالمانہ احکام موجود ہیں۔غلاموں کے لئے سخت اور انسان موز احکام درج ہیں، چنانچہ خروج ۲۱ میں لکھا ہے۔:۔اگر کوئی اپنے غلام یا لونڈی کو لاٹھیاں مارے اور وہ مار کھاتی ہوئی مرجائے تو اُسے سنا دی جائے لیکن اگر وہ ایک دن یا دو دن بیٹے تو اسے سزا نہ دی بہائے اس لئے کہ وہ اس کا