تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 106
مال ہے۔یہ اس تعلیم میں غلاموں کے لئے کتنی سختی ہے۔پھر بائیبل میں خلافت عقل تعلیم بھی موجود ہے۔چنانچہ اخبار باب ۲۰ آیت ۲۷ میں لکھا ہے :۔مرد یا عورت جس میں من ہو یا وہ جادوگر ہو تو وہ قتل کئے جا دیں چاہیے کہ تم ان پر پتھراؤ کرو اور ان کا خون انہیں پر ہووے یا ی کیسی تعلیم ہے۔یہ سب اختلافات ظالمانہ اور خلاف عقل تعلیمات قرآن کریم کی ضرورت پر دانت کی تھی ہیں۔عہد نامہ جدید یعنی انا جمیل مسیح کے اقوال پر مشتمل نہیں کیونکہ مسیح اور ان کے حواری نیودی النسل تھے اس لئے اگر مسیح کا کوئی قول محفوظ ہو سکتا ہے تو عبرانی زبان میں لیکن انجیل کا کوئی نسخہ عبرانی زبان میں محفوظ نہیں بلکہ تمام اناجیل یونانی زبان میں ہیں۔اناجیل کے اندر بھی اختلافات اور تو ہمات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔مثلاً مرقس اس میں لکھا ہے :- ہے:۔۔" اور روح اسے فی الفور بیابان میں لے گئی اور وہ وہاں بیابان میں چالیس دن تک رہ کو شیطان سے آزمایا گیا اور جنگل کے جانوروں کے ساتھ رہتا تھا اور فرشتے اس کی خدمت کرتے تھے " وہ انسان جو حضرت مسیح کی عظمت اور ان کے مقام کا قائل ہے اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہے کہ یہ مقامات انا جیل میں بعد میں داخل کئے گئے ہیں۔پھر سیج نے اناجیل میں اپنے نہ ماننے والوں کے خلاف جو سخت الفاظ استعمال کئے ہیں مثلاً انہیں سور اور گتے قرار دیا اور اپنی والدہ کا بھی لحاظ نہیں کیا اور اس کی بے ادبی کی۔یہ سب امور ہماری رائے میں بعد کے آنے والے لوگوں نے ایجاد کئے ہیں جبکہ مسیح اس دنیا سے جاچکے تھے اور ایک مصنوعی اور خیالی مسیح اس زمانہ کے نادان اور دین سے نا واقف لوگ بنا رہے تھے۔ان سب امور کے پیش نظر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نئے الہام کی ضرورت تھی جو اس قسم کی غلطیوں سے پاک ہوا اور بنی نوع انسان کو اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ روحانیت کی طرف لے جائے اور وہ کتاب قرآن مجید ہے۔قرآن کریم ایک مکمل اور عالمگیر شریعت ہے جو کامل نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وجود باجود سے معرض وجود میں آئی۔بائبل میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بارہ میں مستعد و پیش گوئیاں بھی موجود ہیں خیالی