تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 302 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 302

٣٠٢ کشمیر کے مسئلہ کے متعلق کیا فیصلہ کرے گی ؟ میں نے انہیں جواب دیا کہ میرے خیال میں سیکیورٹی کونسل کا فیصلہ عقل اور انصاف پر مبنی نہیں ہو گا بلکہ جو فریق ان کی جھولی میں زیادہ خیرات ڈالے گا وہ اس کے حق میں ووٹ دیں گے۔میں نے ان سے کہا کہ میرے خیال میں انڈین یونین نے ان کی جھولیوں میں کچھ ڈال دیا ہے اس لئے مجھے اچھے آثار نظر نہیں آتے۔پولیس کے ایک نمائندہ نے کہا کہ پھر آپ سمر ظفر اللہ کو تارکیوں نہیں دیتے ہیں نے جوابا کہا کہ سر ظفر اللہ میرے ملازم نہیں بلکہ پاکستان حکومت کے ملازم ہیں ان کی ملازمت کی ذمہ داریوں میں دخل دینا میرے لئے ہر گز جائز نہیں یہ پاکستان حکومت کا کام ہے کہ وہ اُن کو مشورہ دے کہ اس موقع پر ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیئے یہ لئے ۱۹ امان ر ما رچ کو حضور کو کراچی سے روانہ ہونا تھا۔جماعت احمدیہ کو تین بنیادی انصائح اس روز حضور نے اپنے خلیہ بعد میں جمعیت حمدیہ کو خطبہ جمعہ تین بنیادی نصائح فرمائیں جن کی تفصیل حضور ہی کے مبارک الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔فرمایا :- ہ جس طرح انسان پر چینی کا زمانہ آتا ہے اسی طرح قوموں پر بھی ایک بچپن کا زمانہ آتا ہے۔جب خدا کسی جماعت کو دنیا میں قائم کرتا ہے تو کچھ عرصہ اسے سیکھنے کا موقعہ دیتا ہے مگر پھر اس پر ایک دوسرا زمانہ آتا ہے جب وہ قوم بالغ ہو جاتی ہے اور اس پر ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں جیسے بالغوں پر عائد ہوتی ہیں تب بہت سی باتیں جو طفولیت میں معاف ہوتی ہیں اور غلطی ہونے پر چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے بلوغت کے زمانہ میں نہ وہ باتیں اسے معاف ہوتی ہیں اور نہ غلطی واقعہ ہونے پر اس سے چشم پوشی کا سلوک کیا جاتا ہے۔ہماری جماعت پر بھی بلوغت کا زمانہ آرہا ہے اور خدا تعالٰی کے فعل نے بتا دیا ہے کہ ہماری جماعت اب ان راستوں پر نہیں چل سکتی جین پیر وہ پہلے چلا کرتی تھی بلکہ اب اسے وہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو قربانی اور ایثار کا راستہ ہے اور جس پر چلے بغیر آج تک کوئی قوم بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ہندوستان میں احمدیوں کی آبادی کا زیادہ تر حصہ بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ ستر فیصدی حصہ پنجاب میں ب الفضل ۲۲ - امان / مار