تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 83
مسلم مہاجرین کی آبادکاری استان العلم الومون مشرقی پنجاب میں اسلامی اثر و اقتدار کے قائم رکھنے کا جو مثالی اعلان فرمایا اس سے احمدیوں کے علاوہ کیلئے قیمتی اور اہم تجاویز غیر احمدی مسلمانوں کو بھی باخبر کہ ناضروری تھا تا انہیں بھی ایک عمومی تحریک ہو جائے چنانچہ حضور نے مخاص اس مرض سے از تبوک استمبر ہش کو ریعنی اپنی ہجرت کے پہلے ہی ہفتہ میں ایک پولیس کا نفرنس کو خطاب فرمایا جس میں مسلم مہاجرین کی آباد کاری کے لئے ارباب حکومت کے سامنے بعض نہایت بیش قیمت اور اہم تجاویز رکھیں۔اس پریس کانفرنس کی مفصل خبر لاہور کے اخبارات میں سے نوائے وقت“ اور ” انقلاب" نے بھی شائع کی۔(حاشیة تعلقه صفحه گذشته :- خود ساختہ تحریکات کے سیاسی راہ نماؤں اور بعدائی جماعتوں کے سربراہوں میں عملی قوتوں ، عزائم اور دعاوی کے اعتبار سے کتنا واضح ، بین اور روشن فرق اور امتیاز ہوتا ہے۔اس کی فیصلہ کن مثال قادیان اور جمال پور آج بھی پیش کر رہے ہیں۔جمال پور ضلع گورداسپور کی تحصیل پٹھانکوٹ کی بستی ہے جہاں سید ابو الاعلی صاحب مودودی اور ان کے انتقاد ۱۵ جون ار سے لے کر ۲۱ ۱ اگست ۹۴۷ٹہ تک مقیم رہے۔یہ مقام تقسیم ہند سے قبل "جماعت اسلامی کا مرکز تھا۔جماعت اسلامی اسے دار الاسلام" کی حیثیت دیتی تھی جب ضلع گورداسپور کے اس علاقہ میں فسادات اُٹھ کھڑے ہوئے تو جناب مودودی صاحب نے دھڑنے سے یہ اعلان کیا کہ ور اگر کسی علاقے سے مسلمانوں کے قومی خروج یا اخراج کی نوبت آجائے تو اپنی جگہ چھوڑنے والو میں ہم سب سے پہلے نہیں بلکہ سب سے آخری ہوں گے“ (ترجمان القرآن جلد ۳۱ سیر صفحه (۲۶) مگر فسادات کے شروع ہی میں جب پور سر کاری کیمپ بنا دیا گیا تو مودودی صاحب اور ان کے رفقاد اپنا دار الاسلام ہندوؤں اور سکھوں کے حوالہ کر کے ۳۰ ظہور / اگست ۳۶ یہ مہیش کو پاکستان میں آگئے۔۱۹۴۷ء اس کے برعکس سیدنا المصلح الموعود نے اپنے وعدہ کو جس اولوالعرمی اور استقبال کے ساتھ پورا کر کے دکھا دیا وہ تاریخ مذاہب میں اپنی مثال آپ ہے۔جماعت احمدیہ کا مرکزہ قادیان جمال پور سے بڑھ کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا اور یا وجود عالمی مطالبہ کے اس کو سرکاری کیمپ بھی تجویز نہ کیا گیا۔بایں ہمہ ستنا المصلح الموعود کے جانباز فدائی اور احمدی مجاہد فسادات کو میں بھی اسلام کا پرچم تھامے ہوئے قادیان میں ڈٹے رہے۔دیقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر