تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 82 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 82

۸۲ یکیں ان لوگوں کو جو مشرقی پنجاب سے آئے ہیں کہتا ہوں کہ تم اپنے اپنے مقامات میں واپس بھانے کی کوشش کرو۔اگر دُور دُور کے گاؤں میں نہیں جا سکتے تو تم لاہور ،سیالکوٹ اور قصور کے پاس پاس پہلے بھاؤ۔فیروز پور کے ارد گر در ہو یا تم اجنالہ میں رہو یا بٹالہ یا گورداسپور میں رہو۔یہ تفصیلیں ایسی ہیں جو پاکستان سے لگتی ہیں۔دو گھنٹے میں انسان ادھر جا سکتا ہے اور دو گھنٹے میں انسان اُدھر جا سکتا ہے۔اگر ۲۴ لاکھ مسلمان مشرقی پنجاب سے نکل آیا تو یاد رکھو کہ چار کروڑ مسلمان جو یو پی ہمیٹی اور مدراس میں رہتا ہے وہ سب کا سب مارا جائے گا۔اور سارا گناہ اُن مسلمانوں پر ہوگا جو مشرقی پنجاب میں سے بھاگ رہتے ہیں۔تم دس دس میل سے بھاگ رہے ہو اور پاکستا انے میں آرہے ہو تو اُن کے اور پاکستان کے درمیان تو تین پچار سو میل کا فاصلہ ہے وہ کس طرح آئیں گے۔یقیناً وہ اسی جگہ مارے بھائیں گے۔لیکن اگر اُن کو تسلی ہوئی کہ مسلمان بھگوڑے نہیں تو اُن کے اندر بھی جرات پیدا ہو بھائے۔اور وہ بھی اپنے اپنے مقام پر کھڑے رہیں گے ورنہ یاد رکھو جتنا ثواب حضرت معین الدین صاحب پشتی ، حضرت نظام الدین صاحب اولیاء اور تضرت فرید الدین صاحب شکر گنج والوں کو ہندوستان کو مسلمان بنانے کا ملا۔اس سے کہیں بڑھ کر عذاب تمہیں ہندوستان سے اسلام ختم کرنے کی وجہ سے ملے گا۔پس مشرقی پنجاب میں تم پھر واپس جاؤ۔بیشک اپنی عورتوں اور بچوں کو ادھر چھوڑ جاؤ۔لیکن اگر تم نے اس ملک کو خالی کیا تو اسلام کا نام و نشان تک اس میں سے مٹ جائے گا اور پھر نہ معلوم سینکڑوں سال بعد یا کب اسلام کی دوبارہ ترقی کے کے لئے اللہ کی طرف سے نئی رو پیدا ہو۔یہ پیریں بے شک ابتلاء والی نہیں مگر تمہیں یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے پہلے سے ہمیں ان باتوں کی خبر دی ہوئی ہے۔اگر اس کی مندر تجریں تمہارے دلوں کو پریشان کرتی اور مسلمانوں کا تنزل تم کو جنگیں بناتا ہے تو کیا اس کی بشارتیں تمہارے دلوں میں ایمان پیدا نہیں کرتیں اور کیا تم یقین نہیں رکھتے کہ جبس سخدا کی وہ باتیں پوری ہوگئیں جو مسلمانوں کے تنزل کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں اس خدا کی وہ باتیں بھی ضرور پوری ہو کر رہیں گی جو اسلام کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں یہ لے سکے له " الفضل " ۲۰ تبوک استمبر ۲۶ مش صفحه ۳ * اشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں :