تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 72
۷۲ کوشش اور انتظام کرے اور کہنا پڑتا ہے کہ جہانتک ظاہری کوشش اور سامان کا تعلق ہے۔اس نے نہایت ہوشیاری اور عقلمندی سے یہ فرض ادا کیا۔سو کے قریب ملٹری ٹرک تھے جن کو دائرہ کی شکل میں کھڑا کر دیا اور اندر کی طرف ہر ایک کی سواریوں کو اتار کر آرام کرنے کے لئے کہ دیا۔باہر کی طرف کڑا پہرہ قائم کر دیا۔اس کے علاوہ قریب قریب کے مکانوں پر مضبوط پکٹیں قائم کر دیں۔افسروں کو نگرانی پر کھڑا کر دیا۔خود بھی مسلح کار پر چکر لگاتا رہا۔ملڑی ہو قریباً ساری کی ساری احمدی نوجوانوں پر مشتمل تھی، بڑے سے بڑے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ساری رات بالکل تیارہ رہیں۔اس طرح رات امن اور خیریت سے گزر گئی اور صبح کو قافلہ روانہ ہو گیا۔یہ اس قافلہ کا ذکر ہے جس میں قادیان کی تمام عورتیں اور بیچتے آخری بار روانہ ہو گئے۔اس سے قبل پرائیویٹ لاریوں کا ایک اور کنوائے ملٹری کی حفاظت میں اس وقت پہنچا تھا جبکہ ابھی قادیان میں رہنے والوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالا گیا تھا اس پر سوار ہونے والوں پر بھی انتہائی تشدد کیا گیا۔ابھی وہ کنوائے کے کا ہی ہوا تھا کہ اگلے دن صاحبزادہ مرزا داؤ د احمد صاحب میجر ابن حضرت مرزا شریعت احمد صاحب کی سر کردگی میں چند ملڑی لڑکوں پر مشتمل ایک اور کنوائے پہنچ گیا۔جب یہ کنوائے تیار ہو کر اس جگہ پہنچا جہاں ہندوستانی ملٹری تلاشی لیتی تھی تو پہلا کنوائے وہیں رکا پڑا تھا۔اور میڈیا کی مار دمنماڑ کا شکار ہو رہا تھا۔اس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب نے عورتوں اور بچوں کی سہولت کی خاطر اپنے رتبہ اور درجہ کی کوئی پروانہ کرتے ہوئے ایک ایسا طریق اختیار کیا جو نہایت کامیاب ثابت ہوا۔اور ان کے زیر حفاظت کنوائے تھوڑی دیر کے بعد ہی روانہ ہو گیا۔اس وقت موقعہ پر تلاشی لینے والا بڑا افسر موجود نہ تھا۔وہ گورداسپور گیا ہوا تھا اور انچارج صاحبزادہ صاحب کے مقابلہ میں کوئی بہت چھوٹے درج کا انسر تھا۔میں نے دیکھا۔صاحبزادہ صاحب نے بے تکلفانہ گفتگو کرتے ہوئے اپنا بازو اس کی کمر میں ڈال دیا۔اسے ساتھ لئے ہوئے ادھر اُدھر ٹہلنے لگے اور وہ آپ کے ساتھ ساتھ پھلنے لگا۔آپ کی یہ ادا دیکھ کہ میرا دل خوشی اور مسرت سے بھر گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد ہمارے لئے کیا کیا کوشش کر رہی ہے۔چند ہی منٹ بعد آپ کے