تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 68
YA احمدی احمدی خواتین کی حفاظت نہایت اندار کار اما بلاشبہ میری خواتین کو قربان سے حفاظت کی کارنامه پاکستان پہنچا دینا سید نا الصلح الموعود کا ایک اور اس کے بعض حیرت انگیز پہلو ایسا شاندار کارنامہ ہے جو ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا۔ہم اس عظیم انسان اور بے مثال کارنامہ کا ایک جامع تھا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے قلم سے سطور بالا میں لکھ چکے ہیں۔اب جناب خواجہ غلام نبی صاحب سابق ایڈیٹر الفضل" کے لفظوں میں اس کے بعض تیرت انگیز پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔محترم خواجہ صاحب اپنی ذاتی واقفیت اور چشمدید حالات کی بناء پر تحریر فرماتے ہیں :- قادیان کے ارد گرد کے مسلمان دیہات میں سکھوں کے مظالم جب روز بروز بڑھنے لگے۔ٹوٹ مادر، قتل و غارت اور آتشزنی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہونے لگا۔ملٹری اور پولیس ٹیروں اور غنڈوں کی زیادہ سے زیادہ امداد کرنے اور مسلمانوں کی تباہی کو انتہا تک پہنچانے میں منہمک ہو گئی اور خطرات کا سیلاب زیادہ سے زیادہ شدت کے ساتھ قادیان کے قریب سے قریب پہنچنے لگا تو حفاظتی اور دفاعی انتظامات کے سلسلہ میں خواتین اور بچوں کی حفاظت کی طرف حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے خاص توجہ مبذول فرمائی۔اور حضور کے ارشاد کے ماتحت لجنہ اماءاللہ کی کارکن خواتین نے ایسی مستورات کی فہرست تیار کی جنہیں ضعف قلب کی تکلیفت یا کوئی اور عارضہ لاحق تھا تا کہ سب سے پہلے ان کو قا دیان سے باہر محفوظ مقام پر پہنچانے کی کوشش کی جائے۔مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ پہلے پہیں اس قسم کی فہرست میں نام درج کرانے سے بہت سی ایسی خواتین نے انکار کر دیا جنہیں کوئی نہ کوئی عارضہ تو لاحق تھا لیکن دل مضبوط تھے۔ان کی خواہش تھی جس کا انہوں نے باصرار اظہار بھی کیا کہ موت کے خطرہ سے انہیں قادیان سے باہر نہ بھیجا جائے۔اگر اب موت ہی مقدر ہے ، تو قادیان سے بہتر جگہ اور کونسی ہو سکتی ہے یا پھر ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ خطرہ کے وقت ممکن خدمات سر انجام دینے کے موقع سے انہیں کیوں محروم کیا جاتا ہے۔لیکن جب بتایا گیا کہ ان کی موجودگی مردوں کی سرگرمیوں میں مشکلات اور روکاوٹیں پیدا کرنے کا موجب ہوگی اور دشمن کا مقابلہ اس اطمینان اور انہماک سے نہ ہو سکے گا جو ان کے پہلے بہانے کے بعد کیا جا سکتا