تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 59
۵۹ ہونا چاہیے۔اس وقت اختلافات پر زور دینا یا احمدی غیر احمدی میں فرق کرنا ایک قومی غداری ہے جن مسلمانوں پر ظلم ہوا ہے اُن کے عقیدے یا فرقے کی وجہ سے نہیں ہوا۔اس لئے ہوا ہے کہ وہ اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انت کہتے تھے ہیں ظالموں نے ان آدمیوں پر ظلم نہیں کیا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کیا ہے اور جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی وجہ سے ظلم ہوا ہماری عقیدت اور ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اس کی مدد کریں تارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی کا انسان نہ رہے۔(1) تم کبھی غریب اور بیکس پر ظلم نہ کرو۔ہر ہندو اور سکھ بھی خدا تعالے کا بندہ ہے۔اس کے بھائیوں نے اگر غلطی کی ہے تو ہم کو سوچنا چاہیئے کہ کیا بھائی کی غلطی یاد رکھے بجانے کے قابل ہے یا آسمانی باپ کا رشتہ۔ہم سب اپنے آسمانی باپ کے ذریعہ سے بھائی بھائی ہیں، نہیں ان تمام اختلافات کے با وجود ایک ہندو بھی ہمارا بھائی ہے اور ایک سکھ بھی ہمارا بھائی ہے ہم اس کو ظلم نہیں کرنے دیں گے مگر ہم اس پر ظلم ہونے بھی نہیں دیں گے۔پھر یہ بھی سوچو کہ کسی دن یہی لوگ اسلام میں داخل ہو کہ اسلام کی ترقی کا موجب ہوں گے۔کل جس باغ کے پھل ہمیں ملنے والے ہیں ہم اُسے کیوں اُبھاریں۔والسلام مرزا محمود احمد ۱۴ ستمبر شده یہ $6 قادیان کی احمدی آبادی خصوصا مستورات اور تھوک ستمبر تار میش کی مشاورت میں طے پایا تھا کہ قادیان سے احمدی عورتوں اور احمدی بچوں کے انخلاء کی مجنونانہ جد و بے ہودی بچوں کو پاکستان میں پہنچانے کافوری بندوبست کیا جائے۔یہ معاملہ بتا سنگین، اہم اور فوری توجہ کا متفق تھا اتنا ہی مشکل اور کٹھن بھی تھا مگر حضرت مصلح موعود نے اس مقصد کے پیش نظر مجنونانہ جد و جہد شروع فرما دی پہلے تو انفرادی طور پر پاکستان کے احمدیوں کو قادیان بجانے اور عورتوں بچوں کو وہاں سے لانے کی تلقین کی۔ازان صد تبوک استمبر میش کے خطبہ جمعہ میں جماعت کے سامنے تحریک عام فرمائی کہ ہمیں قادیان کی "الفضل ۵ار تبوك استمر الا الله مش صفحه ۱-۲ ۳۲ ۱-۰۲ ا