تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 40 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 40

چنانچہ حضور نے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آج جبکہ لاکھوں انسان موت کے گھاٹ اتارا بھا رہا ہے یا موت کے مقام سے بھا گئے کی کوشش کر رہا ہے لمبی باتیں اور لمبی کہانیاں کچھ فائدہ نہیں دے سکتیں۔ایسے خطرناک وقت میں سوچھنے اور کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ وقت قربانی اور ایشار کا ہوتا ہے نہ کہ باتیں کرنے کا۔آجکل ہماری جماعت جن مشکلات میں سے گزر رہی ہے ، شاید باقی جماعتیں ان مشکلات میں سے نہیں گزر رہیں بلکہ شاید کیا یقیناً دوسری جماعتوں کو اس قسم کی مشکلات در پیش نہیں ہیں جو ہماری جماعت کو در پیش ہیں کیونکہ ہمارا مرکز ہاں وہ مرکز ہو ہماری امیدوں کی آماجگاہ ہے اور جس کا نام سن کر ہمارے دل دھڑکنے لگتے ہیں وہ ایسے حالات سے دوچار ہو رہا ہے کہ دنیوی اسباب کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔پس سب سے زیادہ مشکلات ہمارے لئے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ جو مشکلات ہمیں پیش آئی ہیں وہ انسانی تدبیر سے بالا تھیں۔میرے نزدیک یہ مشکلات ایسی ہیں کہ اگر صحیح تدابیر اختیار کی بجائیں تو یہ حالات پیدا ہی نہ ہوتے اور عام مسلمانوں کو بھی اور احمدیوں کو بھی یہ مشکلات پیش نہ آئیں۔لیکن اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے اور نکتہ چینی کا کوئی فائدہ نہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایسے اوقات قربانی اور کام کرنے کے ہوتے ہیں۔مگر بہرحال ایک دفعہ دنیوی لحاظ سے ہماری جماعت کی بنیادیں بظاہر ہل گئی ہیں اور اب اللہ تعالیٰ امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ بچاہتا ہے کہ از سر نو ان بنیادوں کو مضبوط کیا جائے اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کتنے ہیں جو ایمان اور اخلاص کے میدان میں پیسے اُترتے ہیں اور کتنے ہیں جو قربانی اور ایثار سے کام لے کر اپنے ایمانوں پر مہر ثبت کرتے ہیں۔انہی مسائل پر روشنی ڈالنے کے لئے لیکن قادیان سے آیا ہوں کہ جماعت کے سامنے ابت مور کو پیش کروں جن کے متعلق میں مشورے کی ضرورت سمجھتا ہوں۔میں آج محبت سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اس کے امتحان کا وقت ہے ایسے موقع پر ہر شخص کو مرد میدان ثابت ہونا چاہیے۔اور جو شخص ایسے وقت میں مردِ