تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 39
٣٩ طور پر اس سے سلسلہ فائدہ اُٹھا لے اور نیک نیتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے انہیں بڑی ٹھوکر سے بچالیا۔یہاں پہنچ کر میں سمجھتا ہوں کہ پندرہ سولہ لاکھ کے قریب روپیہ لوگ واپس لے چکے ہیں" سے امامت فنڈ کے ان شاندار اور شیریں ثمرات کا اقرارہ احمدیت کے بدترین مخالفوں کو بھی کرنا پڑا ہے۔چنانچہ لائل پور کے ہفت روزہ " المنبر" نے اپنی ہر مارچ نہ کی اشاعت میں لکھا:۔تقسیم ملک کے وقت مشرقی پنجاب کی یہ واحد جماعت ہے جس کے سرکاری خودانہ میں معتقدین کے لاکھوں روپے جمع تھے اور جب یہاں مہاجرین کی اکثریت بے سہارا ہو کر آئی تو قادیانیوں کا سرمایہ جوں کا توں محفوظ پہنچ چکا تھا۔اس سے ہزاروں قادیانی بغیر کسی کاوش کے از سر نو بھال ہو گئے" ر अवतर توائے احمدیت کا پاکستان میں منتقل کیا جاتا ہو تو ستمبر اپریل کا دن سلسلہ احمدیہ میں خاص اہمیت کا حامل ہے اس لئے کہ اس دن حضرت مرنا عزیز ا دینا نائب ناظر اعلیٰ قادریان نے حضرت قمرالانبیاء کی خصوصی ہدایت پر لوائے احمدیت " کا بکس پاکستان بھیجوا دیا۔یہ یادگار بکس مرزا عبد الغنی صاحب محم صدر انجمن احمدیہ لائے تھے۔حضرت سیدنا اصلح الموعود کا پاکستان میں حضرت سیتا المصلح الموعود نے پاکستان پہلا خطبہ جمعہ میں پہلا خطبہ جمعہ ہر تبوک استمبر سرش کو ارشاد فرمایا۔اور مستقبل احمدیت سے متعلق پر شوکت یونی خندا که برگزیده خلفاء معرفت و بصیرت کتنے بلند و بالا اور ارفع و اعلیٰ مقام پر کھڑے ہوتے ہیں اور انہیں اپنے پیارے رب کے پاک وعدوں پر کتنا ز بر دست یقین ہوتا ہے؟ اس کا اندازہ حضور کے اس پہلے تخطیہ ہی سے بخوبی لگ سکتا ہے جس میں حضور نے ازحد نا مساعد اور نا موافق حالات میں واضح پیشگوئی فرمائی کہ اللہ تعالے ان انبتلاؤں میں تحریک احمدیت کو یقینی طور پر کامیابی بخشے گا۔له " الفضل" 19 فتح دسمبر ۱۳۳۹ صفحه ۵ کالم ۳ - ۰۴ +19