تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 38
۳۸ تھیں۔ان کا جمع شدہ تمام سرمایہ چونکہ حضرت مصلح موعود کی بر وقت توجہ اور ذہانت و بصیرت کے طفیل بذریعہ ہوائی جہاز بالکل محفظ صورت میں پہلے ہی پاکستان پہنچ چکا تھا۔اس لئے جونہی وہ پاکستان پہنچے انہیں ان کے طلب کرنے پر پورے کا پورا روپیہ مل گیا اور ان کی مالی حالت میں یکا یک استحکام پیدا ہو گیا اور جہاں دوسرے لاکھوں پناہ گزین در بدر ٹھوکریں کھاتے پھر رہے تھے یا کمیوں میں گل سنٹر رہے تھے وہاں ان کی مختلف تجارتیں اور دیگر کاروبار کامیابی سے پھل نکلے۔سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے یکم فتح دسمبر ۳۲ میش کو امانت فنڈ کی +190 اس حیرت انگیز برکت اور بخدا تعالیٰ کے مالی نشان پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے بیان فرمایا :- جس وقت ہم قادیان سے نکلے ہیں اس وقت وہی لوگ محفوظ رہے ہیں جن کی امانتیں تحریک تجدید یا صدر انجمن احمدیہ میں تھیں۔یہاں پہنچے کو انہوں نے روپیہ واپس لے لیا اور کاروبار شروع کئے۔اب ان میں سے بعض بڑی بڑی تجارتوں کے مالک ہیں۔دوسرے لوگ لٹ گئے لیکن یہ لوگ بچ گئے۔بخدا تعالیٰ نے فضل کر دیا کہ جن بنکوں میں جماعت کا روپیہ تھا انہوں نے دیانت داری سے کام لیا اور ہمارا روپیہ واپس کر دیا۔ہمارے عملہ نے تو سستی کی لیکن جب ہم لاہور پہنچے تو میں نے کہا روپیہ فوراً نکلوا لو۔مجھے کہا گیا کہ روپیہ سکلا نے کی کیا ضرورت ہے ؟ نگوں میں تحفظ پڑا ہے ، پڑا رہے۔لیکن میں نے کہا حالات ایسے ہیں کہ اگر اب رویہ نہ نکلوایا گیا تو بعد میں بہت سی وقتیں پیدا ہو جائیں گی بچنا نچہ سمیر ان کے مہینہ میں ہی دفتر نے روپیہ پاکستان تبدیل کروالیا اور سلسلہ ایک بڑے صدمے سے نکہ گیا۔اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ نہ کوئی روپیہ واپس لا سکتا ہے اور نہ ہندوستان بھیج سکتا ہے۔چونکہ سوائے اتنے روپے کے جس کی قادیان والوں کو ضرورت تھی باقی سارا روپیہ واپس آگیا تھا اس لئے لاکھوں لاکھ روپیہ انجمن بلا تکلف واپس دیتی چلی گئی اور اب کیوں نہیں سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس روپیہ سے تجارتیں جاری کیں۔اگر ان کا روپیہ یہاں نہ ہوتا تو سکھوں نے لوٹ لینا تھا لیکن اب ان میں بعض لکھ پتی ہیں۔غرض یہ فائدہ بخش چیز بھی ہے اور خدمت دین بھی ہے۔اس میں برکت ہی تھی کہ امانت رکھنے والوں نے یہ خیال کیا کہ روپیہ بے فائدہ گھر پڑا ہے اُسے دفتر میں رکھ دیں تاکہ وقتی