تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 466
۴۶۰ اڑھائی بجے کے قریب جلسہ کا دوسرا اجلاس شروع ہوا۔ماسٹر حضر مصلح موجود کی دوسری روح پرور تقریب فقیر اللہ صاحب نے تلادت کی۔اسکی بعد سید نا حضرت مصلح موعود نے پہلے تو قادیان کے درویشوں اور جماعت امریکہ کا پیغام سلام دعا پہنچایا۔نیز امریکہ، ہالینڈ اور جرمن نسلوں کے اخلاص پر اظہار خوشنودی فرمایا اور پھر سیر روحانی کے روح پر در سلسلہ مضامین کی چوتھی کڑی یعنی " عالم روحانی کا بلند ترین مینار یا مقام محمدیت " کے موضوع پر اس شان سے روشنی ڈالی کہ حاضرین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی جور نے اپنی تقریر کے دوران مقام محمدیت کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : - دو ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔اور ہم بھانتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سچا علام بڑے سے بڑا مقام حاصل کر سکتا ہے اور عیتا بھی وہ پڑھتا چلا جائے گا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار سے ہی استفادہ کرے گا اور ہمیشہ آپ کے غلاموں اور چا کروں میں ہی اس کا شمار ہوگا۔ہمیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ اس دعوئی کے نتیجہ میں ہم مارے جائیں یا قتل کئے جائیں یا اپنے وطنوں سے نکال دیئے جائیں ہم فخر سمجھیں گے کہ ہم نے ماریں تھا کہ درگاہیں شن کر اور وطنوں سے بے وطن ہو کہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کیا اور آپ کی عظمت کو یاد دنیا میں روشن کیا۔حضور پر نور نے اپنے اس حقائق و معارف سے لبریز لیکچر کے آخرمیں افراد جماعت کو یہ قیمتی نصیحت فرمائی کہ جس دن تم اُٹھتے بیٹھتے اور پھلتے پھر تے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر بن جاؤ گے اور جس دن تمہاری زندگی میں محمد رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے اعمال کی تھلک پیدا ہو جائے گی۔دنیا سمجھ لے گیا کہ محمد ول ال صل اللہ علیہ وسلم زندہ ہیںاور تمہارے اعمال اور اخلاق اور کردار کو دیکھ کہ اس کے دل میں تمہاری محبت بڑھتی چلی جائے گی۔تم ایک زندہ اور مجسم نمونہ ہو گے تم پھلتی پھرتی تبلیغ ہو گئے۔تم دنیا کے راہ نما اور را بھیر ہو گئے تم محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آستانہ کی طرف دنیا کو کھینچ کہلانے والے ہو گے اور دہ لوگ بھی آخر تمہارے نمونہ کو دیگر بیاب ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ جب تک ہم رہے بڑے محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ لیں ہم صبر نہیں کہ سکتے۔تب دنیا میں محمد ول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہو جائے گی اور تمام بنی نوع انسان آپ کی غلامی میں شامل ہو جائیں گے۔لے ه سیر رومانی جدید با صفحه ۱۹ ، ۱۷۶۱۷۵