تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 465 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 465

۴۵۹ دس بجے تشریف لائے اور عملہ کے بعد جلسہ کا افتتاح کیتے ہوئے فرمایا :- اجتماع وہی بابرکت ہوتے ہیں جو یک ارادی کے ساتھ شروع کئ جائیں ہمارایہ چھوڑا اجتماع یا قادیانی اجتماع میں میں، ہزار آدمی ہوتے تھے۔دنیا کی دو ارب آبادی کے مقابلہ میں کونسی بڑی باس سے مگر ہمارے سامنے تو دو ارب نفوس کے قلوب کو فتح کرتا ہے اسلیے ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم کس رفتار سے جارہے ہیں اگر ہماری رفتار معقول اور پھول زمانے میں کامیاب ہوتو الحمد للہ لیکن اگر ہماری رفتار اتنی سی ہے کہ صدیوں کا انتظار کرنا پڑے تو یہ افسوس اور رینج کی بات ہے۔پیر محض جلسے جلوسوں اور اجتماعوں پراکتفانہ کرنا چاہیے۔بلکہ مومنانہ جوش اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت تبلیغ اور اشاعت حق کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔اس کے بعد حضور نے اپنے چند خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا۔بینک پہ مار کے دن ہیں کو آخر کٹیں گے۔چنانچہ میری یہ خواہیں بتا رہی ہیں کہ انشر تعالی کے فضل سے احمدیت کا مستقبل تاریک نہیں۔خداتعالی ہمیں مشکلات پر غالب آئیکی توفیق دیگا۔اور یہی نہیں بلکہ ملا کے ذریع سے ہندوستان میں روحانی حکومت امام کریگا راستی بعد یمانی حکومت تو اس کی تابع ہوا ہی کرتی ہے۔جب لوگ مسلمان ہو جائیں تو بادشاہ خود بخود ہی مسلمان ہو جاتا ہے۔ہمیں یہ بات خوشی نہیں کرسکتی کہ زید یا کمر دن یہ ہو بلکہ ہماری خوشی تو یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اسلام قائم ہو جائے۔دنیا کا گورنر جنرل محمد و اله صل الله علیه وسلم جو در دنیا پر محمد رسول الله صلی الہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہو۔ہمارے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ہمارے بچے اور بوریاں ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیئے جائیں مگر ہیں یہ خوشخبری مل جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو یہ صورت ہماری ہزاروں زندگیوں سے بہتر ہے۔اپنی مستیوں کو ترک کرد اور اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرو اور یہ مدت خیال کرو کہ ہم تھوڑے ہیں کیونکر کہ م من نشَةٍ قليلةٍ غَلَبَتْ فشَةً كَثِيرَةً بَا ذَنِ اللَّهِ القره ع بہت سی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آچکی ہیں۔راسی اختتامی خطا کے بعد حضور واپس تشریف لے گئے اور تلاوت د نظم کے بعد بالترتیب مندر جو فیل نال مقری نے معلومات افزاء تقریریں کیں۔قاضی مراسم صاحب ایم۔اسے کینٹ ہی ان دی پیپرمنٹ کا ایک او می گورنمنٹ کالج لاہور۔(اسلامی نظام حکومت کا تھا کہ ) (۲) صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی مجاہد امریکہ امریکا میں تبلیغ اسلام ، (۳) حکیم فضل الرحمن صاحب مجاہد مغربی افریقی - افریقہ میں تبلیغ اسلام کے ها الفضل ۳۰ ر امان مارچ سه سالانه مش هت به ۱۹۴۸