تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 461 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 461

تجارت کے لئے چندہ : فرمایا جس طرح پر عام چندو لیا جاتا ہے اس طرح آئندہ ایک اور چندہ لیا جائیگا بستی مختلف مقامات پر کارخانے اور دکانیں کھول جائیں گی اوریہ چندہ ہرایک کے لئے لازمی ہوگا۔اس وقت تجارت کا بہت تو ہر ہے۔آڑ مت کی تجارت بہت فائدہ مند ہے اور اس طرف بہت کم لوگوں نے توجہ دی ہے۔فوجی تربیت :۔اسکی بعد صدور نے منصر اجماع کو ہی تربیت حاصل کرنے اور مختلف قسم کی فوجی تنظیم میں شمولیت کی تلقین کی۔قادیان کی جدائی کا صدمہ: اپنی تقریر کے آخری حصہ مں حضور نے فرمایا کہ قادیان چھوٹ جانے پر بعض لوگوں نے نهایت بزرع فروع کیا ہے۔اور آنسو بہائے ہیں لیکن میں اسے بے غیرتی سمجھتا ہوں۔یہ رونے کا وقت نہیں ہے بلکہ کام کا وقت ہے۔میرا آنسو قادیان کے لئے اس دن ہے گا جب میرا دوسرا آنسو ہی خوشی میں ہے گا کہمیں قادیان میں فاتحانہ داخل ہورہا ہوں۔جذبات نیک کام کی تکمیل میں مدہوتے ہیں۔لیکن میں اپنے جذبات اس دن کیلئے وقف رکھنے چاہئیں جب ہم قادیان لینے کے لئے نکلیں۔ہجرت اور دوبارہ آمد کے متعلق پیش گوئیاں : حضرت امیرالمومنین نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضرت سیح موعود علیہ سلام کی پیشگوئیاں جو قادیان سے ہجرت کے متعلق تھیں اوراسی مضمون کے اپنے رویا و کشوف بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ان پیش گوئیوں کے دہ ھے جو یہاں سے نکلنے کے متعلق تھے پورے ہو گئے تو ضروری ہے کہ دہ حصے بھی پور سے ہوں گے جو قادیان میں دوبارہ آنے اور فاتحانہ داخل ہونے کے ہیں۔پانچ بجے کے قریب حضوری کی یہ معرکتہ الا راد تقریر ختم ہوئی۔اور یہ تاریخی جلسہ دعا کے بعد نہایت خیر و خوبی اور نہایت درجہ کامیابی کے ساتھ برخواست ہوا۔کے اختبار تجدید نظام " نے حضور کی اس تقریر کا معنی یہ درج ذیل الفاظ میں شائع کیا۔صور کی تقریر کا ذکر پریس میں پاکستان اسلامی حکومت ہے۔اس کا ضابطہ حیات بھی اسلامی ہی ہونا چاہیئے۔مہاجرین کا مسئلہ کوئی نا قابل حل مسئلہ نہیں۔امیر جماعت احمدیہ کا اعلان - لاہور ۳۱ د کبر احمدیہ کانفرنس میں مرندا بشیر الدین محمود نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی پنجابی اور ہندوستان کے دوسرے بھوں سے پناہ گزینوں کے سیاہ کے پاکستان کے مسلمان مایوس نہ ہو نا ایک کردار ادا کر نیا کام ایسانہیں سپر قابو نہ پایا جا سکے۔آپ نے سکھا اور ع : ٣٠ الفضل فتح اکبر ۳ تا ۱۵ ان علی جلسہ کے نگران اعلی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر امارات بشیراحمد افسر جلسہ سالانہ حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب اور ناظم جلات الانہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر حمد مساحت تھے۔مہمانوں کے کھانی کا انتظام رین بار اور دیو کار بلڈنگ میں نظامیں قائم تھیں جیسے نگران با ترتیب وی مرا برایم صاحب بنی ہے۔اور ماسٹرعلی حمد صاحب بیا مقرر کئے گئے۔دوسر انتظامت کے متعین یہ تھے۔میری اسد الشد اللہ جب حفاظت خاصی نظامت مکانات چودری بود هم می تواند خدام ان حدیده بود۔ا انتظام نگاه میان علامه محمد بی اختر انداست استقبال انکوائری آفس، شیخ محبوب الہی صاحب بی بی نے ان است اسیلاتی : ( تحصیل کیلئے ملاحظ