تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 453 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 453

۴۴۹ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب - انشورنس اور نیکنگ کے متعلق اسلامی نظریہ )۔قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری - دانا جبیلی کی حیثیت)۔مصف حضر ت میں خود کا دوسرا ولولہ انگیز خطاب مندی بالاترین کے بعد محمود نے ہر عمر لگاہ میں پڑھائی۔اسکے بعد علی جلسہ کا دوسرا اجلاس شروع ہوا سے پہلے ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے عداوت کی اور مکرم محو صدیق صاحب ثاقب زیردی نے حضور کی تار ظلم نہایت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔اس نظم کے چند اشعار یہ تھے:۔در یہ یہاں کا حال کسی کو سنائیں کیا طوفان اٹھ رہا ہے جو دل میں بتائیں کیا دامن نہی ہے ، فکر مشوش ، نگر غلط آئیں تو تیرے در پہ مگر ساتھ لائیں کیا دریہ اپنا ہی سب تصویر ہے اپنی ہے سب خطا الزام ان پہ ظلم وجت کا لگائیں کیا ر اس نظم کے بعد حضرت مصلح موعود نے حالات حاضرہ کے متعلق ایک نہایت دلولہ انگیز اور پری وش تقریر فرمائی۔ابتدا میں حضور نے فرمایا این حالات کی وجہ سے لاکھوں مسلمانوں کو مشرقی پنجاب اور اس کے ملحقہ علاقوں سے پاکستان میں آنا پڑا۔اور لاکھوں ہندوؤں اور سکھوں کو پاکستان سے نکل کر ہندوستان کی طرف جانا پڑا ان کی وجہ سے لازماً طبائع میں بار بار یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تھا اور کیا ہوگیا؟ اور یہ کہ ہمیں آئندہ کیا کرنا چاہیئے ؟ ہماری جماعت کے قلوب میں بھی لاز کا یہی جذبات پیدا ہوتے ہوں گے اسلیے میں انہیں کے متعلق آج کچھ کہنا چاہتا ہوں۔موجودہ ملاقات مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا اگر بیچی ہے کہ اسلام خدا کا مذہی ہے۔اور اگر یہ درست ہے کہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم خدا کے آخری نبی ہیں جن کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آسکتی اور جس کے بعد کوئی ایسا حاکم نہیں آسکتا جو آپکے کسی حکم کو بدلے۔اور اگر یہ بھی ہے کہ آپ کی بادشاہت قیامت تک جاری ہے تو پھر ان کا نہیں مانا پڑے گا کہ اسلام کی ترقی اور منزل میں خدا کا تو ہے اور یہ کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں خواہ وہ حالات خدا کی طرف سے بطور سزا کے ہوں یا بطور تنبیہہ۔بہر حال اس میں خدا کی طرف سے کوئی نہ کوئی پہلو بھلائی کا ضرور مخفی ہوگا۔اگر ہم اپنا یہ نقطہ نگاہ بنائیں کہ بھلائی کا دو مخفی پہلو کیا ہے اور اسکی ہم کسی طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ تو یقینا ہمار استقبل ماضی سے زیادہ شما مدار اور روشن ہو سکتا ہے۔بیٹا مسلمانوں پر بڑی بھاری تباہی آئی۔پانچ چھو گھر سلمان مارے گئے اور پانچ چھ