تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 451 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 451

لاہور کے ظلی جلب میں سفر مسلح میرا شادی کے بعد یہ کام کے مان مر ما نفت را بر روبات احمدیہ کا علی جیسہ بود حال با رنگ متصل نین باغ لاہور کے ایک کا پُر معارف افتتاحی خطب) وسیع میدان میں اپنی مخصوص شان کے ساتھ شروع ہوا۔اس روز دنی بجے کے قریب سید نا حضرت امیر المومنين الصلح الوعود اینج پر رونق افروز ہوئے اور سورہ فاتحہ کی تقادات کے بعد فرمایا۔آج کا جلسہ غیر معمولی حالات میں منعقد ہو رہا ہے۔گذشتہ سال قادیان میں جاب سالانہ کے موقعہ پر کوئی احمدی یہ قیاس بھی نہیں کر سکتاتھاکہ اگلے جلسے کے موقعے پر ہم اپنے مرکز سے محروم ہوں گے اور ہمیں کسی پانابلہ کرنا پڑے گا میگیوں کے لحاظ تو ای ی ی ی ی ی ی ی ی ی حیت رکھتی ہیں اور سول ایم علی الہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ كُلَّمَا مَسجِد یعنی میرے لئے ساری زمینیں مسجد بنادی گئی ہیں اگر ہر جگہ ہی خدا کی سجدہ گاہ بن سکتی ہے تو وہ مومن کے لئے جلسہ گاہ بھی بن سکتی ہے۔لیکن بہر حال عادی تعلقات ور محبتیں ضرور قلب پراثر ڈالنے والی چیزیں ہیں اور ہر چیز انسان کو جب معلوم ہوتی ہے۔اگر کرائے کا ایک مکان بھی تبدیل کیا جائے تو تکلیف ہوتی ہے اگر کوئی شخص اپنی ملکیت کا مکان بھی خود اپنی مرضی سے فروخت کرتا ہے تو اسے بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے تو پھردہ جگہ چھوڑنے پر کیوں تکلیف محسوس نہ ہو جو ہماری نگاہ میں مقدس تھی، جو ہمارے نزدیک روحانی ترقی کا ذریعہ تھی جو ہمارے نزدیک دین کی اشاعت اور تبلیغ کا مرکز تھی اور جنسی ہمیں جبری طور پر اور ایسے طورپر مردم کر دیا گیا ہے کہ جبتک دیہاں کے حالات پھر پیٹا نہ کھائیں ہم آسانی سے وہاں نہیں جا سکتے۔یہ چیز تکلیف دہ تو ضرور ہے اسکی دل مجروح تو ضرور ہوتے ہیں لیکن مومن ہاں وہ سچا مومن تو محض من شنا که خدا پر ایمان نہیں لاتا بلکہ جس کا ایمان پورے یقین اور دانوں پر مبنی ہے وہ جانتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ یہ تغیر ایک عارضی تغیرت ہے اسے خوب معلوم ہے کہ قادیان میری چیز ہے وہ میری ہے کیونکہ میرے بندا نے وہ مجھے دی ہے۔گو آج ہم قادیان نہیں جاسکتے گو آج ہم اس محروم کر دیئے گئے ہیں۔لیکن ہمارا ایمان اور ہمارا یقین ہمیں بار بار کہتا ہے کہ قادیان ہمارا ہے وہ احمدیت کا مرکز ہے اور ہمیشہ احدیت کا مرکز رہے گا انشا ء اللہ حکومت خواہ بڑی ہو یا چھوٹی بلکہ حکومتوں کا کوئی مجموعہ بھی ہمیں مستقل طور پر قادیان سے محروم نہیں کرسکتا۔اگر ہمیں نہیں قادیان سے کہ نہ دے گی تو ہمارے خدا کے فرشتے آسمان سے اتریں گئے اور تیسیرگاہ ۵۰۷۲۲۰ انٹ کے رقبہ میں بنایا گیا تھا۔چاروں طرف بہتر گیلریاں تھیں اور دوسط میں شامیانہ کے نیچے ی تھی۔اب اس وسیع میدان پر دکھ میں تعمیر ہو چکی ہیں ہے