تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 450
وہ ہزارہ کی اس مبینہ تعداد کے علاوہ جو احباب لاہور میں اپنی رہائش اور خوراک کا خود انتظام کر سکتے ہوں وہ جلسہ میں شریک ہونے کے لئے آسکتے ہیں۔لے مجلس مشاورت) چنانچہ حضرت مصلح موجود کے فیصلہ کے مطابق ۲۶ رفیق اکبر ہی کو رتی باغ میں ملیں مشاورت کا انعقاد ہوا مجلس مشاورت کے اس غیر معمولی اجلاس کا ایجنڈ احسب ذیل تھا :- - f آمد کا کیا انتظام کیا جائے ہے تبلیغ کے لئے کیا ذرائع استعمال کئے جائیں ؟ پناہ گزینوں کو کس طرح منظم کیا جائے۔تارہ جماعتوں سے کٹ کر بست نہ ہو جائیں ؟ قادیان کی حفاظت کے متعلق کیا تدابیر اختیار کی جائیں ؟ جماعتی تنظیم اور ترقی کے متعلق تھا درین۔را اس اجلاس میں بھی سابقہ منتخب نمائندے ہی شامل ہوئے۔البتہ یہ اجازت دیدی گئی کہ جو منتخب نمائندہ سے شامل ابتلاس نہ ہو سکیں ان کی جگہ دوسرے نمائندوں کا انتخاب فوری طور پر کہ لیا جائے۔ہے راس مشاورت کی ردا د کا خلا صر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے الفاظ میں درج کر نا مناسب ہو گا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ملک صارح الدین صاحب ایم اے کو بذریعہ مکتوب اطلاع دی کہ : - کل لاہور میں مشاورت کا خاص اجلاس تھا جو رتن باغ کے ہال یعنی ہماری موجودہ نماز گاہ میں منعقد ہوا۔سب لوگ فرشتوں پر بیٹھے۔البتہ حضرت صاد کے لئے میزاد لگ گئی تھی اور لاڈ پیار کا انتظام بھی تھا۔جماعت کے مستقبیل کے متعلق اہم امور کے بارے میں مشورہ ہوا۔مثلاً جماعت کی مالی حالت کو مضبوط بنانا، مشرقی پنجا ہے آئے ہوئے احمدی پناہ گن مینوںکی تنظیم ، تبلیغ کی توسیع اور قادیان کی آبادی وغیرہ کے متعلق ضروری مشورہ کیا گیا۔حضرت صاحہ نے اس اجلاس میں دوبارہ اس اصول کو تاکید کے ساتھ بیان فرمایا کہ جہاں پاکستان کے احمدیوں کا یہ فرض ہے کہ وہ حکومت پاکستان کے دفادار رہ ہیں اور اس کی مضبوطی اور ترقی کے لئے کوشش کریں۔وہاں انڈین یونین میں رہنے والے احمدیوں کا یہ فرض ہے کہ وہ انڈین یونین کے دفادار رہیں " سے Irry له الفضل فتح رد بر رفع رد برش و سه : - الفضل ، رفتح دبر من ست : مکتوبات اصحاب احمد جبار دردم م۔(مرتبہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے ) به