تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 445
کو آزاد کشمیری گورنمنٹ ی اعداد کرنا چاہیے۔اور جنگ میں اُن کا ساتھ دینا چاہیئے۔میری اس تقریر میں جنگ کاکوئی ذکر نہیں تھا بلکہ سردی میں ٹھٹھر نے والے لوگوں کے لئے کپڑے کی امداد کا ذکر تھا۔اسی طرح ہندوستان کے احمدیوں کا کوئی امداد 1 کر نہیں تھا۔بلکہ پاکستان میں رہنے والے لوگوں سے خطاب تھا اور جیسا کہیں پر بتاتا ہوں احمدیت کی یہ تعلیم ہے کہ جس حکومت میں کوئی رہے اس کی اطاعت کرے پاکستان کے احمدی پاکستان کے مفاد کاخیال رکھیں گے اور ہندوستان کے احمدی ہندوستان کے مفاد کا خیال کریں گے۔اسی طرح میں طرح پاکستان کے رہنے والے ہندو پاکستان کا خیال رکھیں گئے اور ہندوستان میں رہنے والے عام مسلمان ہندوستان کے مفاد کا خیال رکھیں گے۔یہی وہ بات ہے جس کی پاکستان کے لیڈر ہندوستان کے مسمانوں کو تلقین کو رہے ہیں اور یہی وہ بات ہے جس کو ہندوستان کے لیڈر پاکستان کے مندروں کو سمجھارہے ہیں۔اگر ہندوستان کے بعض باشند سے اپنے چوٹی کے لیڈروں کی بات بھی نہیں سمجھ سکتے تو وہ میری بات کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔پس تم ان کی باتو پر صبر کرد در احمدیت کی اس نعمت پر ہمیشہ کاربند رہوکہ جیسی حکومت میں رہو اس کے فرمانبردار رہو۔میں آسمان پر خدا تعالے کی انگلی کو احمدیت کی فتح کی خوشخبری سھتے ہوئے دیکھتا ہوں۔جو فیصلہ آسمان پر ہو زمین اسے رہ نہیں کر سکتی اور خدا کے حکم کو انسان بدل نہیں سکتا ہو تسلی پاؤ اور خوش ہو جاؤ۔اور د عادلی اور روزوں اور انکساری پیرز در دو اور بنی نوع انسان کی ہمدردی اپنے دلوں میں پیدا کرو کہ کوئی ملک اپنا گھوڑا بھی کسی نظام سائیں کے سپرد نہیں کرتا۔اس طرح خود ابھی اپنے بندوں کی باگ ان ہی کے ہاتھ میں دیتا ہے جو بخشتے ہیں اور میشم پوشی کرتے ہیں اور خود تکلیف اٹھاتے ہیں تاکہ خدا کے بندوں کو آرام پہنچے۔ہر ایک مغرور، خود پسند اور عام عارضی خوشی دیکھ سکتا ہے گو مستقل خوشی نہیں دیکھ سکتا۔پس تم نرمی کرد در لغو سے کام نو اور بعدا کے بندوں کی بھلائی کی فکر میں لگے رہو۔تو اللہ تعالی جس کے ہاتھ میں حاکموں کے دل بھی میں وہ ان کے دل کو بدل دستے گا اور شفقت حال ان پر کھول دیا یا ایسے حاکم بھیج دیا جو انصاف اوردم کرنا جانتے ہوں۔تم لوگ جن کو اس موقعہ پر قادیان میں رہنے کا موقعہ ملا ہے اگر نیکی اور تقوی اختیانہ کر دگنے و تاریخ احمدیت میں عزت کے ساتھ یاد کئے جاؤ گے اور آنے والی نسلیں تمہارا نام ادب دا احترام سے لیں گی۔اور تمہارے لئے دعائیں کریں گی اور تم وہ کچھ پاؤ گے جو دوسروں نے نہیں پا یا۔اپنی آنکھیں نیچی رکھو لیکن اپنی نگاہ آسمان کی طرف بلند کرد - فَلَنُو لِيَكَ قِبْلَةً تَرْضَهَا " نه خاکسار مرزا محمود احمد خلیفه مسیح الثانی ۲۳ د نمبر شانه ای مکتوبات اصحاب احمد جلد اول مات ۲۶ ) مرتبہ جناب ملک اصل روح الدین صاحب ایم۔اے ) ؟ “ =