تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 443 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 443

تجلسہ کا پروگرام صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب ناظر دعوت و تبلیغ قادیان نے مرتب فرمایا تھا۔۲۲ فتح رودسمبر۔جلسہ کے افتتاحی اجلاس کی کاروائی کا آغاز کلام پاک کی قدرت سے کیا گیا۔جو حافظ عبد الرحمن صاحب پشاوری نے کی۔پھر گوجرانوالہ کے بیشیر صاحب نے حضرت مصلح موعود کی درد انگیز نظم نو نهارای بافت سے خطاب " سنائی۔ازاں بعد حضرت یہیوی عبد الرحمن صاحب جٹ نے نہایت رفت بھری آواز سے سورہ فاتحہ کی اورت کی رانی محصر تقریریں بتایا جی بی شنوا میں پہلی دفعہ قادیان میں آیا تو ڈاک ہفتہ میں صرف در باہر آتی تھی اور تار کا کوئی انتظام ہی نہیں تھا۔بعد میں جب جماعت نے تد کھ کھلوانا چاہا تو محکمہ نے نے بطور ضمانت ایک معقول رقسم مجاعت سے وصول کی۔لیکن آمد اتنی زیادہ ہوئی کہ ایک ماہ میں ہی ہماری رقم واپس کر دی گئی۔پھر کچھ عرصہ بعد ٹیلیفون سلسلہ بھی جاری ہو گیا۔حضرت مولوی صاحب نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ قادیان موجود ہے۔اس کے مقدس شعائمہ موجود ہیں۔اس کی مساجد موجود ہیں۔اس کا نگر خانہ موجود ہے لیکن افسوس ہمارا پیارا اعلام یہاں موجود نہیں۔انھیں اپنے آقا کو دیکھنے کے لئے ترستی ہیں مگر پاتی نہیں ، تاہم ہمیں ایک گو نہ خوشی ضرور ہے کہ حضور نے ہم خادموں کو اپنے پیغام سے نوازا ہے۔یہ بشارت سنانے کے بعد حضرت مولوی صاحب نے امام تمام امیر المومنین سیدنا المصلح الموعود کا پیغام پڑھ کر سنایا جو یہ تھا :- يم الدالرحمن الرحيم و اصلی ما رو به کار و على بعبده البيع المود ا کے فضل اور رسم کے کا تھیلا خوش برادران جماعت احمدیہ مقیم قادیان ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ نہ رہیں جب میں بچی کے لئے کیا تھانوں سے واہی ترمیم کی ہیں ہو تی تھی۔جہاز دو دہی لیٹ ہو گیا۔سعید میں عیلیہ میں شمولیت سے محروم رہا۔اس کو پور سے پینتیس سال ہوگئے۔آج پور سے ۳۵ سال کے بعد پھر اس سال کے جلسہ میں شامل ہونے سے محروم ہوں۔ہم قادیان کے جلسہ کی یادگاریں با ہر بھی علیمہ کہ رہے ہیں۔لیکن اصل میسہ رہی ہے جو کہ قادیان میں ہو رہا ہے اور پور سے چالیس سال کے بعد پھر یہ جلسہ مسجد اقصی میں ہو رہا ہے مسجد تقصی میں ہونے والا آخری جلسہ وہی تھا جو کہ حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخری سال میں ہوا۔آپ کی وفات کے بعد