تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 33 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 33

اُن سے تعارف نہ تھا۔حسنِ اتفاق سے دونوں نصاب صاحبان کا حسن انتخاب عمل میں آیا تھا۔عمر کے لحاظ سے ایک جوان اور دوسرے ضعیف العمر مگر جنون مومنانہ، فعالیت، جذبہ ایثار اور انتھک معملی زندگی کے اعتبار سے دونوں میں فرق قائم کرنا مشکل تھا حضرت نواب محمد دین صاحب سارا سارا دن اپنی رفاقت شعار شیور نے کار میں مختلف النوع جاتی امور کی تکمیل کے سلسلہ میں متعلقہ دفاتر اور محکمہ جات میں افسران مجاز سے ملاقاتیں کرتے تھے اور خاکسار کو ہر وقت ساتھ رکھتے اور ساتھ ساتھ مختلف امور نوٹ کراتے بھاتے۔آپ نہیت اور حسن اخلاق اور عشق احمدیت کا نمونہ تھے۔تعطیلات کے اختتام پر اور فسادات کی حالت اچھی ہونے پر لاء کالج میں پڑھائی شروع ہو گئی تو اس خیال سے کہ کام کی شدت اور وسعت بھی کم ہو چکی تھی میں نے حضرت نواب صاحب سے مناسب الفاظ میں ذکر کیا تو آپ نے محبت بھر سے دعائیہ الفاظ میں رخصت کیا ہے اگرچہ حضرت امیر المومنین کی آواز پر متعدد احمدیوں نے لبیک کہی مگر جب تک قادیانی سے ار نبوت / نومبر میش کا آخری کا نوائے نہیں آگیا عملہ کی قلت بدستور قائم رہی۔یہی وجہ ہے کہ رتن باغ میں جہاں ناظر اعلے کی طرف سے ضروری اطلاعات کے لئے ایک بورڈ لگا دیا گیا تھا۔اکتوبر کو چاک سے حسب ذیل اعلان لکھوایا گیا ہے۔۶۱۹۴۷ " احباب موجودہ حالات کی نزاکت سے بخوبی واقف ہیں کہ کس طرح سلسلہ عالیہ اور اس کے افراد پر ایک ناگہانی ابتلاء پیش آیا ہے۔اس وقت ہو مجھے لاہور میں کام کر رہے ہیں وہ کارکنوں کی قلت کی وجہ سے اپنے فرائض بخوبی انجام نہیں دے سکتے اور احباب کی پوری مدد نہیں کر سکتے۔لہذا ایسے احباب جو کسی نہ کسی صورت میں تو خدمت انجام دے سکتے ہوں مثلاً کلرک ، ٹائیپسٹ ، حساب دان ، ڈاکٹر، کمپونڈر وغیرہ وغیرہ بہت جلد ناظر صاحب اعلیٰ کے دفتر میں اپنا نام و پتہ مع دیگر تفصیلات متعلق صلاحیت خدمت درج کرائیں اور اس طرح اجر عظیم کے مستحق ہوں۔امید ہے کہ احباب بہت جلد توجہ فرمائیں گے“ بی اعلان اس دور کی دفتری مشکلات کی منہ بولتی تصویر ہے۔چنانچہ مولانا جلال الدین صاحب ے " اصحاب احمد " جلد ۱۲ سیرت حضرت نواب محمد عبد الله بغال صاحب صفحه ۱۳۹ - ۱۴۱ :