تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 427
۳۲۳ روزانہ اختیار کو پیدا ہوئی ہے۔جس میں میری طرف یہ منسوب کیا گیا ہے کہ گویا میں نے یہ کہا ہے۔کہ ایک اہم عہدہ پر ایک در سیر کو مقر کیا گیا ہے اور وہ اس کا اہل نہیں ہے۔یہ بالکل غلط ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک شخص ترقی کر کے بہت بعد مقام تک پہنچ سکتا ہے۔میرے کہنے کا مطلب صرف یہ تھا کہ ٹیکنیکل کام صرف ٹیکنیکل ماہرہی کہ سکتے ہیں۔دوسرے اس کو سرانجام نہیں دے سکتے۔اس کے بعد اصل موضوع شروع کرتے ہوئے حضیر نے فرمایا۔موجودہ زمانہ میں جنگ ظاہری اور ن مخفی والیوں سے لڑی نہاتی ہے جو یہ ہیں۔(۱) تبری۔(۲) فضائی۔(۳) بحری - (۴) اقتصادی دباؤ - (۵) ففتھ کا لم۔سب سے پہلے میں تیری کو لیتا ہوں۔اس میں پیادہ نوج- ٹیکنیکلی فوج - توپ خانہ خوراک ، لباس وغیرہ کی سپلائی اور سٹور کرنے والے ، علاج کرنے والے اور پیرا شوٹرز شامل ہیں۔اسکے بعد حضور نے نہایت تفصیل کے ساتھ پاکستان کی دفاعی طاقت کا جائزہ لیا۔اسکے بعض قابل توجہ پہلوؤں کی نشاندہی فرمائی اور بعض ایسے اہم اور مفید وقت بتائے جو دفاع پاکستان کے لئے اس دور میں مفید تھے۔حضور نے پاکستان کی فضائی طاقت کو مضبوط بنانے پربھی بہت زور دیا اور فرمایا کہ عام میں نمانی تربیت حاص کرنے کا جان پیدا کرنا چاہئے اوریونیورٹیوں اور کالجوں میں اس کا انتظام کر نا چاہیئے۔اس ضمن میں حضور نے فرمایا کہ ضرورت کے وقت ہوائی جہا ن تو ایک دن ہمیں خریدے جا سکتے ہیں لیکن آدمی ایک دن میں تیار نہیں ہو سکتے۔لہذا ابھی سے اس طرف توجہ کہ نی چاہیئے۔حضور کی تقریر کے بعد صاحب صدر میاں فضل حسین صاحب نے اپنی صدارتی تقریر مں حضور کی پیش کردہ تا دیز پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت ضرخدمت ہے کہ پاکستان کا ہر فرد فوجی تہ بیت حاصل کرے۔ماہ ایک پانچویں لیکچر کے آغاز میں حضور نے بتایا کہ ملکوں کا بری طاقت مختلف اقسام کے جہازوں پر تمل ہوتی پانچواں پچر ہے۔پھر حضور نے بھری طاقت کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایاکہ پاکستان کے پاس اس وقت تجارتی بیڑے کی حفاظت کرنے والے بند تھیو نے جہانہ موجود ہیں۔اگر اچھے افسر ہوں تو ان ہی سے لڑائی میں کسی حد تک کام لیا جا سکتا ہے۔بحری جہازوں میں کام کرنے کی زمینگ کے لئے کر اچھی میں دو سکول موجود ہیں ایک چھوٹے بچوں کے لئے اور ایک نو پرانوں کے لئے لیکن تار پیٹ کا کام سکھلانے اور مکینیکل ٹریننگ کے لئے کوئی سکول تارپیڈو اور موجود نہیں ہے۔پیسکو فوری طور پر قائم ہو جانے چاہئیں۔پاکستان کے پاس اچھی بندرگاہ صرف کراچی کی ہے۔حضور نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو SUBHARINES (آبرو کشتیاں) - MINELAYERS نے اس امر پر زور ه - الفصل الا رفتن دسمبر روش ماه ۱۳۲۶ -