تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 426
میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتے۔حضور نے فرمایا معنوی دولت افراد کے دماغ اور ان کے جسم مل کر پیدا کر تے ہیں اور اس لحاظ سے پاکستان کے پاس یہ دولت پیدا کرنے کے بہترین ذرائع موجود ہیں۔دماغی لحاظ سے ایک سامان چار امور سے متاثر ہوتا ہے :۔(۱) عقیدہ توحید (۲) عقیدہ عبودیت - (۳) دعا۔(۴) تذهیب - حضور نے ان چاروں اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر مسلمان ان چاروں امور پر کامل یقین اور ان کے مطابق تبدیلی پیدا کریں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر خود بخود جرأت ، دلیری ، بہادری، علوم کی ترقی کا شوق - عرض ترقی کرنے کی تمام صفات پیدا ہو جائیں گئی جسمانی قوت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔مغربی پاکستان کا بچہ بچہ بہادر ہے۔میرا اندازہ ہے۔کہ ہندوستان کے بیس کروڑ افراد میں سے جتنے سپاہی نکل سکتے ہیں۔پاکستان کے دو کروڑ افراد میں سے اتنی ہی تعداد میں لیکن قابلیت کے لحاظ سے ان سے بہتر سپا ہی مہیا ہو سکتے ہیں۔حضور نے معنوی دولت سے فائدہ اٹھنے کے لئے مندرجہ ذیل تجاویہ بیان فرمائیں : (۱) پاکستان میں ہر سلمان کے لئے قرآن مجید کا ترجمہ اب انا لازمی قرار دیا جائے۔مادری زبان میں تعلیم دی جائے اس سلسلے میں یہ رہتی پاکستان پندار نہ دیا جات کو دو فر در گرد کو زرعی تعلیم بنائے در نہ وہ پاکستان سے علیحدہ ہو جائے گا۔کیونکہ وہاں کے باشندوں کو بنگالی زبان ایک قسم کا عین ہے (س) اگر دو زبان کو لینگو افرینیکا قرار دیا جائے۔اس سلسلہ میں حضور نے یہ تجویز پیش فرمائی کہ غالب اموتن اور داغ مجھے نگرانوں میں جو علی اور شیریں اُردو رائی ہے۔اس کے تحفظ کے لئے دہلی کے مہاجرین کی ایک علیحدہ ہستی آباد کی بجائے۔ورنہ اب یہ خاندان منتشر ہورہے ہیں اور آہستہ آہستہ ان کی زبان نا پید ہو جائے گی۔حضور نے اس سلسلر می نو جوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اخلاق کو درست کریں۔سوچنے اور غور کرنیکی عادت ڈالیں۔وقت کی قدر کریں اور اسے ملک اور قوم کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید بنائیں۔امیر اور غریب کے درمیان ارتباط پیدا کر یں۔اور اقتصادی حالت کو اونچا کرنے کی کوشش کریں یہ ہے سیدنا حضرت امیر المومنین الصلح الموعود نے اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے فرمایا کہ میری آج کی تقریہ چوتھا لیکچر پاکستان کی بڑی فضائی اور بھری دفاعی طاقت کے لحاظ سے اس کے مستقبل کے متعلق ہے۔لیکن اصل موضوع کے شروع کرنے سے قبل میں ایک غلط فہمی کا نالہ کر دینا چاہتا ہوں۔جو میری پھیلی تقریہ کے ایک حصہ کے متعلق ایک ه الفضل هم رفتم دسمبر هایش ۲ ۶۱۹۲۰