تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 424
چھوٹی سی لیبارٹری اس کام کے لئے مقرر کردی تھی مشہور ہندوستانی سائنسدان بو بدری صدیق الزمان صاحب اس کے انچار ج مقرر کئے گئے تھے اور انہوں نے بنگال کی شہور بوٹی چھوٹی چندن پر تجربات کر کے اس کا اسکائیڈ معلوم کر لیا تھا۔مگر ہندوستانی روانی پھوٹ کا شکار محکمہ ہوگیا۔چوہدری صدیق الزمان صاحب کو حکومت ہند میں ایک اچھی جگہ مل گئی اور ن کے جانے کے ساتھ ہی یہ کم بھی ختم ہوگیا۔اب چوہدری صدیق الزمان صاحب حکومت پاکستان میں آگئے ہیں ان کے مشورہ سے یا ن کی نگرانی میں اس قسم کا حکمہ پھر کھولا جاسکتا ہے۔شاید ایک لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کے خرچ سے ابتدائی لیبارٹری قائم کی جاسکتی ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ ان سے لاکھوں بلکہ کردن دی روپیہ کا نفع حاصل ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔بعض جڑی بوٹیاں طبی طور پر اتنی مفید ہیں کہ انگریزی دور میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔مگر مشکل یہ ہے کہ ان کے استعمال کا طریق ایسا ہے کہ آج کل کے نزاکت پسند لوگ اس کی برداشت نہیں کر سکتے اگر انکل میرزا در دوسو سے فعال اجزا او نکال لئے بھائیں یا ایکٹ ٹیکیٹ بنائے جائیں تو یقینا نہ صرف طب میں ایک مفید اضافہ ہوگا۔بلکہ پاکستان کی دل میں ایک عظیم اضافہ ہوگا۔ادویہ کے علاوہ جڑی بوٹوں میں بعض اور کیمیا کی اجزاء بھی ہیں۔جو مختلف صنعتوں میں بڑا کام آسکتے ہیں۔چنانچہ بہت سی بوٹیوں کے نندوں سے کشتے بنائے جاتے ہیں۔آخران کے اندر ایسے اجزاء ہیں جو کہ دھاتوں کو تحلیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔اگران کو الگ کر لیا جائے تو نہ صرف گشتے بنانے آسان ہو جائیں گے۔بلکہ اور کئی قسم کی صنعتیں جاری کرنے کا امکان پیدا ہو جائے گا ہ ملے اخبار زمیندار دارد کبر کا لنڈ نے اس لیکچر کا خلاصہ حسب ذیل الفاظ میں شائع کیا : - امریکہ سے قرضہ لینا پاکستان کی آزادی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔پاکستان کی زراعت کو خطرہ۔فوری تدابیر کو عمل میں لانے کی اشد ضرورت۔مرزا بشیر الدین امام جماعت احمدیہ کی تقریه - ا بودند در کمیر مرزا بشیر الدین محمد احد امام جماعت احمدیہ نے کل شام مینار ڈالی لاء کالج میں پاکستان اور اس کا مستقبل کے موضوع پر ایک عظیم اجتماع کے سامنے تقریر کرتے ہوئے پاکستان کی زراعت ، اقتصادیات اور معاشیات با فصیح و بلیغ لیکچر دیا۔ملک فیروز خان نوں اس اجتماع کے صدر تھے۔مرزا صاحب نے زراعت کے سلسلے میں ذرائع آپاشی خصوصا نہروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پچاس سال کے بعد نہروں کے خراب ہو جانے کے باعث پاکستان کی زراعت کو سخت خطرہ ہے اور اس خطرے کے تدارک کے لئے سائنس کے اصولوں پر کام کرنے کے لئے اتنی دوست کی ضرورت ہے اور اتنے اخراجات کا احتمال ہے۔بصورت موجودہ ہماری حکومت جن کی متحمل نہیں ہوسکتی۔لیکن پیرنی سلطنتوں خصوصاً الفضل اور فتح اکبر از بیش مثال :