تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 421
الم چاہیئے تھا۔مگر دیہاتی اقتصادی حالت کے خراب ہونے کی وجہ سے وہ بھی مجبور ہو کہ ہندوؤں کے پیچھے چل پڑے جو گائے کے گو بہ کو متبرک خیال کرتے ہیں۔اور اسے چوٹھے میں جلانا تو انگ رہا کھانے کی چیزوں میں لانے سے بھی دریغ نہیں کرتے پاکستانی حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایسا انتظام کرے کہ سوختنی لکڑی کثرت سے تمام دیہات اور قصبات میں مل سکے اتنی کثرت سے کہ زمینداروں کو جلانے کے لئے اوربچوں کی ضرورت پیش نہ آئے۔میرے نزدیک پاکستانی حکومت کو پانچ پانچ کچھ چھ گاؤں کا ایک یونٹ بنا کر ان کی ایک پنچائیت بنا دینی چاہیئے۔جو اقتصادی اور صحت انسانی کے قیام کی ضرورتوں کے ہیا کر نے کی ذمہ دار ہو۔ان گاؤں کے درمیان میں ایک حقہ درختوں کے لگانے کے لئے مخصوص کہ دیا جائے۔یہ درخت تعمیری کاموں کے لئے مخصوص ہوں۔اسکے علاوہ ہر گاؤں ہی چراگاہوں کی حفاظت ان کے سپرد ہو۔جہاں چرا گا ہیں میں ہونی پہنچائیوں کے سپرد کی جائیں۔اور جہاں نہیں ہیں حکومت خود براگا میں بناکر ان ناچاہتوں کے سپرد کرے اور ہر گاوں میں حکومت اتنے درخت سوختنی لکڑی کے سگر ائے جو اس گاؤں کی ضرورت کو پر کر سکیں اوران پہنچانوں کا قرض ہو کہ وہ دکھتی رہی کہ ہر گاؤں مقررہ تعداد درخت کی لگاتا رہتا ہے۔اگر یہ انتظام بھاری کیا جائے تو یقینا سوختنی لکڑی کا سوال حل ہو جائیں گا اور گو یہ کھاد کے لئے بنچ جائیگا۔جس ملک کی زراعت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ہر ایسے قصبہ کے لئے جس کی آبادی دس ہزارہ سے زیادہ ہو قصبہ سے کچھ فاصلہ پر ڈسٹرکٹ بورڈوں کی نگرانی میں سوختنی لکڑی کی رھیں بنوانی چاہئیں۔بلکہ میرے نزدیک تو جس طرح ڈسٹرکٹ بورڈ مقر ہیں اسی طرح ہر ضلع میں اس کی مونسپل کمیٹیوں کا ایک مشترکہ بورڈ ہونا چاہیئے ہمیں کے سپرد اس قسم کے رفاہ عام کے کاموں کی نگرانی ہو۔اس طرح میونسپل کمیٹیوں کے کاموں میں ہم آہنگی بھی پیدا ہو جائے گی اور بارھی تعاون سے ترقی کے نئے راستے بھی نکلتے رہیں گے۔پچاس ہزار سے اوپر کے جو شہر ہوں ان کے لئے سوختنی لکڑی سے رکھ بنانا صوبه داری حکومت کا فرض ہو۔ان شہروں کے لئے شہر کے ایسی طرف زمین حاصل کر کے جس طرف شہر کے بڑھاؤ کا رخ نہ ہو دو تین میل فاصلہ پر سوختنی لکڑی کی رھیں بنادینی چاہئیں۔جہاں شہر میں سکڑی سپلائی ہوتی رہے۔پچاس ہزار آدمی کی آبادی یا اسکی زیادہ کے شہروں کے لئے جتنی سوختنی لکڑی کی ضرورت ہوتی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایک اقتصادی یونٹ ہوگا۔اور حکومت کو اس انتظام میں کو ئی مالی نقصان نہیں ہوگا۔بلکہ نفع ہی ہو گا۔اس انتظام کے علاوہ مرکزی حکومت کے انتظام کے ماتحت بعض بڑے بڑے رکھ بنانے چاہئیں۔ناضرورت کے موقع پر ملک کو سوختنی لکڑی مہیا کی جا سکے ا اگر کسی وقت کولر میں کی ہوتو کارخانے اس لکڑی کے ذریعہ سے چلائے جا سکیں۔دوسرے ڈسٹرکٹو ڈسٹیلیشن (DESTRUCTIVE DISTILLATION ) کے ذریعہ بہت سارے کیمیاوی اجزا علک کے استعمال اور بیرونی دسادر کے لئے پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ڈسٹر کٹو ڈسٹیلیش زیادہ ترسخت لکڑی سے کیا جاتا ہے۔جیسے کیک شیشم،