تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 412 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 412

الم جناب شیخ سر عبد القادر صاحب نے پانچویں لیکچر کی نسبت فرمایا :- حضرت مرزا صاح کے پرمغز اور پر از علومات نیکیوں کا اصل منشاء یہی ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ طبق کو اس اہم موضوع پر غور و خوض کرنے کی طرف توجہ ہو اور انہیں معلوم ہو کہ گو ہمارے سامنے بہت سی مشکلات ہیں لیکن اگر ہم استقلال کے ساتھدان مشکلات پر قابو پانے کی کوشش کریں گے اور کام کرتے پہلے جائیں گے تو یقینا ہم اپنی منزل کو پالیں گے حضرت مرزا صاحب نے ان لیکچروں کے ذریعہ ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ہم سب دل سے ان کے ممنون ہیں۔لے آپ نے چھٹے لیکچر کے اختتام پر اپنی صدارتی تقریر میں کہا :- حضرات میں بجھتا ہوں کہ میں آپ سب کے دل کی بات کہ رہا ہوں۔جب کہ میں آپ سب کی طرف سے حضرت مرزا صاحب کا دلی شکر یہ ادا کرتا ہوں۔نہ صرفآج کے لیکچر کےلئے بلکہ گذشتہ پاپنی پیکروں کے لئے بھی جن میں بے شمار اہم معاملات اور مسائلی کے متعلق نہایت مفید اور ضروری باتیں آپ نے بیان فرمائی ہیں۔لیکن فاضل مقرر سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر ان پینچروں کو کتاب کی شکل میں شائع کر دیا جائے۔تو پبلک آپ کی بہت ممنون ہوگی۔ایک چیز کا میرے دل پر خاص اثر ہے باوجود اس کے کہ فاضل نر اور ان کی جماعت کو گذشتہ ہنگاموں میں خاص طور پر بہت نقصان اٹھانا پڑا لیکن آپ نے ان حوادث کی طرف اشارہ تک نہیں کیا ہیں کھتا ہوں کہ ایسا کرنے میں ایک بہت بڑی حکمت مد نظر تھی اور وہ یہ کہ حضرت مرزا صاحب کا یہ طریق ہے کہ جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا اسے اب بدلا نہیں جا سکتا اس لیئے اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔اب جو کچھ آئندہ ہوسکا ہے اور جھہ بہار سے اختیار میں ہے صرف اسی پہیہ گفتگو ہونی چاہیے کے سے ان لیکچروں کے پس منظر اور ان کے معلومی اثرات پر مختصر روشنی ڈالنے کے بعد اب ہر ایک لیکچر کا الگ الگ تذکرہ کیا جاتا ہے۔اگرچہ پاکستان را تقبل کے موضوع پر نا کیا کیا کچھ برا ہوا تھا ہیں بھی ہوا نیچر علمی پیکر ہونے کی وجہ سے تعلیم یافتہ طبقہ خاص طورپر موجود تھا۔اسلیچر میں حضور نے دنیاوی تحریکات کا ذکر کرتے ہوئے نہایت شرح وبسط سے بتایا کہ پاکستان ایک ارتقائی تحریک ہے۔پاکستان کے دفاع کے متعلق حضور نے فرمایا کہ جس کے مہمسائے کے لیے خیرخواہ نہیں۔ہندوستان میں تو ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو پاکستان کے بن جانے کو ظلم خیال کرتا ہے اور اس کو واپس لینے کے لئے کوشاں ہے۔ہمیں حالات کی وجہ سے پاکستان محفوظ نہیں۔پاکستان کی سرحد ه الفضل در صلح از جوری مش من : ہے وہ افسون یاسر عبد القادر مرحوم کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی اور دنیا اس قیمتی خزانہ سے محروم رہ گئی ہے الفضل دار ماه صبح از جوری شل کلنه پیش منه