تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 409
(۳) ملک عمر حیات صاحب پر نسپل اسلامیہ کالج لاہور وائس چانسلر پنجاب یونیو رسٹی۔(م) میاں فضل حسین صاحب۔ره) ، (ه) شیخ سر عبد القادر صاحب بالقابه علی طبقہ کی طرف سے زبر دست خراج تحسین و کیوری ہونے کی تفصیل کے ساتھ لک قوم کے جلد میں حضور جملہ اہم مسائل میں پاکستانیوں کی راہ نمائی فرمائی اوران کے سامنے پاکستان کے شانہ مستقبل کے معلق میں ایسے ایسے پہلو نے نقاب کئے کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔اور قسیم کیا کہ یہ پاکستان کی ایک بے مثال خدمت ہے اور یہ کہ ارباب حل وعقد کو چا ہیئے کہ آپ کے قیمتی مشوروں سے استفادہ کر کے پاکستان کو مضبوط ومستحکم بنائیں۔چنا اور ناک بند عقیوم صاحب پر نسپل اور کالج نے یہ دیگر شکستہ کو حضر کی خدمت میں لکھا۔پیارے حضرت صاحب کل میں نے پاکستان سے متعلق آپ کا لیکچر نہایت دلیپ سے سنا اور بہت فائدہ اُٹھایا۔کیچ نہ صرف نئے علوم پر مشتمل تھا بلکہ امید در جرات ددلیری کی روح سے بھی معمر تھا۔مجھے یقین ہے کہ میرے دوسرے مسلنے والے ساتھی بھی ہی تار لے کر لوٹے ہوں گے۔یہ صرف لیکچر ہی نہیں تھا کہ درحقیقت یہ وقت کا نہایت اہم انتباہ ہے ان لوگوں کے لئے جو اشیاء کو بالکل مختلف زاویہ نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔اثناء لیکچر میں آپ نے پاکستان کی بڑی اور بحری سرحدوں کے غیر محفوظ ہونے کی خوب صضاحت فرمائی ہے اور جیساکہ آپ نے فرمایا ہے یہ بھی کلیتہ حقیقت پر مبنی ہے کہ پاکستان کا ابل انتظام زمینی رقبہ ہی ہمارے حق میں ہو سکتا ہے۔میں آپ کی اس تجویز سے بھی متفق ہوں کہ مشرقی پاکستان سے سمندر کے راستہ جزائر سکایپ اور مالدیپ کے ذریعہ تعلق قائم کہ ہیں۔اگر کار سے پاس زمینی راستہ نہ بھی ہو تو راستے میں ایک امدادی اسٹیشن تو ہونا چاہیے " (ترجمرا انگریزی لامہ کالج کے ایک پروفیسر شیخ عبد الکریم صاحب نے قریشی محمود احمد صاحب (ایڈوکیٹ ) سے کہا : - حضور کا لیکن اس قدر بلند تھا اورای دیگر از علومات کہ ہر ڈیفنس نمبر کو حضرت صاحب سے مشورہ کہ سکتے رہنا چاہیے۔مرزا مسعود بیایک صاحب احمدیہ بلڈنگی نے حسب ہی چھٹی حضور کی خدمت میں لکھی :- بسم الله الرحمن الرحيم - حضرت مخدومی معظمی زد بودکم السلام علیکم در سمت نمود و کاتدا سے جناب کے دو