تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 30
i لایا نہ جا سکا تھا۔عملہ کی مشکلات دفتروں کا قریباً سب تجربہ کار عملہ ابھی قادیان میں محصور تھا اور بدہ ہے ہوئے حالات میں بظاہر کوئی صورت دفاتر کے قائم ہونے کی نہیں تھی۔۳- مالی مشکلات۔سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جماعت کا مالی نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔مشرقی پنجاب کی جماعتیں تمہیدست اور بے خانماں ہو کر پہنچ رہی تھیں اور پاکستان کی جماعتوں سے بھی چندہ کا آنا بند ہو چکا تھا اور امانتوں سے روپیہ لے کر کام چلایا جا رہا تھا جیسا کہ حضور نے ۱۲ تبوک ستمبر میش کو خطبہ جمعہ کے دوران بتایا کہ امانتوں کا سلسلہ جاری نہ ہوتا تو جہانتک دنیاوی تدابیر کا تعلق ہے اب تک قادیان کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہوتی (خدانخواستہ دفع الله بنيانه واعز شانه بله جہانتک ریکارڈ کا تعلق ہے اسے بعد میں آہستہ آہستہ منگوانے کا انتظام کیا گیا۔اور فوری اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری سٹیشنری لاہو رہی سے خرید لی گئی۔عملہ کی کمی صد رامین احمدیہ پاکستان کے لئے ایک نہایت پریشان کن مسئلہ تھا جس کا مل حضرت مصلح موعود نے یہ فرمایا کہ ارتیک ستمبر کی صبح روزانہ منعقد ہو نے والی میٹنگ کے دوران یہ حکم دیا کہ صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں کام کرنے کے لئے خدام الاحمدیہ میں تحریک کی بجائے کہ نوجوان آگے آئیں اور اپنے آپ کو والنٹیر کریں کہ وہ دفاتر میں کام کریں گے اور ایسے خدام کی فہرست نظارت علیا رکھے کہ کون سے خدام کب اور کتنے عرصہ کے لئے دفاتر کے کام میں مدد دے سکتے ہیں۔حضرت نواب محمد عبد الله تعال صاحب نے اسی روز قائد مجلس خدام الاحمدیہ لاہور قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ کو حضور کا یہ فرمان پہنچاتے ہوئے لکھا کہ اہور کے اقدام میں آپ تحریک کریں اور جو خدام کم از کم ایک ماہ دے سکیں ان کی فہرستیں جس میں ان کی تعلیمی قابلیت ، عمر اور عام صحت کا ذکر ہو " حضرت اصلح الموعود نے میٹنگ کے دوران ہدایت جاری فرمانے کے علاوہ اگلے روز خطبہ جمعہ کے رپورٹ صدرا همین احمدیہ پاکستان ۱۳۲۳۳ مش ؟ ۱۹۴۴ء الفضل» / تبوك / ستمبر ۳۲ به مش صفحه ۲ کالم ۹۳ +