تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 389
۳۸۸ جو سچامن ہے، ابتدامیں اسکی ایمان کی حلاوت اور لذت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔اللہ تعالے کی قدرتوں اور اس کے عجائبات پر اس کا ایمان بڑھنا ہے اور وہ پہلے سے بہت زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کہ تا اور دعاؤں سے فتحیاب اجابت چاہتا ہے۔لے انہی ابتلاؤں کے نتیجہ میں انسان میں وہ زبر دست روحانی اور ذہنی انقلاب بالا آخر یہ پا ہو جاتا ہے جو اُ سے ابدال کے اُس زمرہ میں شامل کر دیتا ہے جس کی نسبت حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں :- " ابدال وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اندر پاک تبدیلی کرتے ہیں اور اس تبدیلی کی وجہ سے ائی کے قلب گناہ کی تاریکی اور رنگ سے صاف ہو جاتے ہیں۔شیطان کی حکومت کا استیصال ہو کہ اللہ تعالٰی کا عرش اُن کے دل پر ہوتا ہے پھر وہ روح القدس سے قوت پاتے اور خدا تعالے سے فیض پاتے ہیں۔تم لوگوں کو بشارت دیتا ہوں کہ تم میں سے جو اپنے اندر تبدیلی کرے گا وہ ابدال ہے۔انسان اگر خدا کی طرف قدم اٹھائے تو منہ تعالی کا فضل دوڑ کر اسی دستگیری کرتا ہے۔کے خدا تعالی کی ابتداؤں سے متعلق اس قدیم سنت کے مطابق درویشوں پر آنے والے مصائب دا اکلام کے یہ ایام بھی اپنے دامن میں آسمانی برکتوں اور رحمتوں کے نز دل کا موجب بن گئے چنانچہ ادھر ۱۶ رماہ نبوت / نومبر کا آخری کند ائے اُن کی آنکھوں سے اوجھیل ہوا۔ادھر ان کے قلوب و اذان کی کثافی و علنی شروع ہوگئیں اور رفتہ رفتہ ان میں ایسی پاک تبدیلی کے آثار پیدا ہو گئے کہ گویا حضرت مسیح موجود کے مقدس زمانہ کی قادیان ایک بار پھرپلٹ آئی۔وہی ار رحمانی جذب دو تا ثیر اور ذوق و شوق ، نہی دعا دل اور عبادتوں کا شغف ، وہی قرآن مجید کے مطالعہ کا التزام اور و ہی اخوت اسلامی کے روح پر در نظارے جن کو دیکھنے کیلئے انھیں نیں گئی تھیں دوبارہ دکھائی دینے لگے۔اجزاده مناظر احمد صاحب ایک قابل قدرنوٹ اپنا نر ا ر ا مر ا ا ا ا ا ا ص نے انہیں دنوں نچہ صاحبزادہ مرزا اظفر احمد صاحب صاحبزادہ قادیان سے لکھا :۔t دو جب یہ آخری مرحلہ طے ہو گی تو اللہ تعالے نے پھر ایک سکون بخشا اور سب کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اچھا اب جو مقصد ہمارے رہنے کا ہے وہ پورا ہو۔اور یہ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے رہنے والوں میں ایک معجزانہ تبدیلی پیدا ہوگئی۔اور یا ایک ہر ایک اس بات میں کوشاں ہو گیا کہ ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد ۶ ص ۲۵۲ جدا من -: i