تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 26 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 26

۲۶ اس طرح ایک دو دوروں میں ہی ہر جگہ کے مبلغین کا STATUS بڑھ جائے گا۔دفاتر صدر انجمین احمدیہ پاکستان کے ساتھ ہی رتن باغ کے ایک حصہ میں لنگر خانہ کا جاری ہونا نگریس نہ کھول دیا گیا اور ملک سیف الرحمن صاحب فاضل ناظر ضیافت مقرر ہوئے اور ان کی امداد کے لئے شیخ محبوب الہی صاحب کا تقر ناظم سپلائی کی حیثیت سے ہوا پچونکہ کوئی خاص انتظام لنگر اور کارکنوں کا نہیں ہو سکتا تھا اس لئے پہلے آٹھ ماہ میں بازار سے قریباً سات ہزار کے نان خرید نے پڑھے۔سامان کی کمی کا یہ عالم تھا کہ قادیان سے صرف آٹھ دیگیں اور کچھ سامان بمشکل منگوایا جا سکا ہیے خوردنی اشیاء مثلاً آٹا، گندم، چاول ، چینی کے لئے پر مٹ حاصل کرنا پڑتا تھا اور باقی ضروریات یعنی لکڑی ،گھی، دالوں وغیرہ کا انتظام بیرو نجات اور مقامی منڈی سے کیا جاتا تھا۔شروع شروع میں لنگر لاہور میں مہمانوں کی ایک وقت میں روزانہ اوسط قریباً چار سو نفوس تک ہوتی تھی۔وجہ یہ کہ ان دنوں بہت سے احباب ہو مشرقی اضلاع سے ہجرت کر کے لاہورمیں پناہ گزین ہوئے لاہور میں عارضی رہائیش کے دوران سلسلہ احمدیہ کے مہمان ہوتے تھے۔لیکن آخر تبوک استمبر ہی میں یہ اوسط گر کر تین سو تک آگئی۔چنانچہ ۳۹ تبوک استمبر یہ مشن کی صبح کو لنگر سے کھانا حاصل کرنے والوں کی تعداد ۲۹۷ تھی کہ عام حالات میں رتن باغ اور اس کی متصل کو ٹھیوں میں مقیم یا دیگر پناہ گزین اصحاب کو ضروری اجناس کے حصول میں بہت سی مشکلات پیش آسکتی تھیں اور آرہی تھیں مگر لنگر خانہ نے معاوضہ پر خشک راشن را جناس اور دیگر ضروریات خور و نوش جاری کر کے ان مشکلات پر بہت حد تک قابو پا لیا۔علاوہ ازیں غیر مہمان احباب کو بوقت ضرورت قیمتاً بھی کھانا مہیا کئے بجانے کا کے سالانہ رپورٹ صدر تخمین احمدیہ پاکستان ۱۹۴۷/۴۸ء صفحه ۳۵ * تو " ام ۶۱۹۵۳۱۵ صفحه ۲۶ و سے تفصیل : مستورات بذریعہ پرچی سکرٹری صاحبہ لجنہ اماء الله (۱۰۱) مستقل خدام و انصار مقیم - رتن باغ (۱۲) مهمانان بذریعہ پرچی افسر خوراک و ناظر ضیافت (۹۵) عارضی اصحاب معاوضہ پر (۳۰) مستقل اصحاب معاوضہ پر (۴۱) عمله لنگر خدام ، باورچی نانبائی وغیره (۱۸) میزان ۲۹۷ $