تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 352
۲۵۱ خلیفہ اول نے کے جگر گوشوں کے نام بالترتیب یہ تھے:۔مرتز اظفر احمد صاحب۔میاں عبد الوہاب صاحب، مرزا مجید احمد صاحب - میاں عبد المنان صاحب عمر - مرزا منصور احمد صاحب رسید مسعود احمد صاحب - مرندا مبشر احمد صاحب - مرند امیر احمد صاحب - مرند آسیم حمد صاحب۔میاں مسعود احمد صاحب - سیر دارد احمد صاحب - سید سید احمد صاحب -۔علماء سلسلہ میں سے مولوی ظہور حسین صاحب سابق مبلغ بخارا در مولوی شریف احمد صاحب ایمنی در چه مدرسه احمدیتی کا نام قرعہ میں نکلا۔٩ - محاسب اور بیت المال کے لئے عبد الحمید صاحب عاجز - امیر عامہ کے لئے مولوی برکات احمد صا حب ہی۔اسے اور ضیافت کے لئے لیٹور نمائندہ مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل جیٹ کا نام تجویز ہوا۔خاندان حضرت مسیح موعود علماء سلسلہ اور بعض دیگر افراد کو جن کا نام سب سے پہلے ٹھہر نے والوں میں نکلا۔) ہفتہ عشرہ کے لئے پاکستان میں بھانے کی عام اجازت دے دی گئی۔اب چونکہ مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے احمدیوں کی ایک مختصر قادیان میں احمدی آبادی کی حدود کے لئے گفتگو اور سمجھوتہ - کی تعداد کی موجودگی کا قطعی فیصلہ ہو چکا تھا اس لئے جماعت کے مرکزی عہدیداروں نے مقامی فوجی افسروں پر خود ہی یہ واضح کرنا شروع کر دیا کہ ہم میں سے ہر شخص اگر بچہ یہی چاہتا ہے کہ قادیان کے سب احمدی محلے دوبارہ آباد ہوں اور کوئی احمد کا قادیان سے نہ جائے مگر چونکہ موجودہ فضائیں ہماری یہ دلی خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔اس لئے ہم قادیان کے صرف اُسی حلقہ میں کمنٹ کہ آباد رہنا چاہتے ہیں جس میں ہمارے مقدس مقامات موجود ہیں۔کیونکہ ان کی حفاظت ہماری مذہبی اور دینی ذمہ داریوں میں سے نہایت اہم ذمہ داری ہے۔ملٹری اور فوج کے ذمہ دار افسر پہلے تو اس کوشش میں مصروف رہے کہ کسی نہ کسی طرح احمدیوں کو مکمل طور پر قادیان سے باہر نکال دیا جائے لیکن پھر جلد ہی محسوس کر لیا کہ احمدیوں کو اپنے مذہبی مرکز سے ایسی بزدوست اور فقید امثال حیرت و عقیدت ہر کردہ اپنی جانیں ایک ایک کر کے قربان کر دیں گے۔مگر جیتے جی ایسے خالی نہیں کریں گے۔سوائے اسکی کہ انہیں حکومت کی طرف سے قادیان چھوڑ دینے کا تحریری حکم دیا جائے یا جبرا اس سرند من بر محروم کر دیا کھائے۔یہ صورت حال دیکھ کر سرکاری افسران اس نتیجہ پر پہنچے کہ احمدیوں کی آبادی کے لئے قادیان میں کچھ نہ کچھ علاقہ