تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 347 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 347

۳۴۶ کوئی حقیقت نہیں۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے جتنی باتیں کہیں ان سب میں اس بات پر زور دیا کہ جولوگ مغربی پنجاب سے لٹ کر آئے ہیں وہ اتنے DESPERATE ہیں کہ ان کو لوٹ مار سے روکنا مشکل ہے۔اس بار میں کئی قصے بھی سناتے۔میں نے کہا کہ ان پناہ گیروں کو ہم بھانتے ہیں ان کی حالت زار کو ہم نے دیکھیں ہے۔وہ ٹوٹنے والے نہیں۔ٹوٹنے والے یہاں کے سکھ یہاں کے ہندو اور ان کی پشت پناہ ہوئیں اور بعض اوقات ملٹری ہوتی ہے۔دوران گفتگو میں اُس نے اصل بات یہ بتائی کہ میں آپ کو بنا تا ہوں کہ آپ کی جگہ BORDEK (مرصد) پر واقع ہے اور اگر مشرقی اور مغربی پنجاب کی BORDER پر کوئی INCIDENT (ھاشہ ہو تو آپ کی پوزیشن بہت خطرناک ہو جائے گی غالباً اس کا اشارہ اس طرف تھا کہ ایسی حالت میں یا تم ختم ہو جاؤ گے یا قیدی بنائے جاؤ گے۔۔۔آخر میں سپر نٹنڈنٹ مناسب پولیس نے کہا کہ با دیور ہمارے بار بار کہنے کے غیر ائینسی شدہ اسلحہ واپس نہیں کیا جا رہا۔اُن سے کہا گیا کہ ہمیں علم ہو کہ کہاں اور کس کے پاس ہے تو واپس بھی کریں۔نیز کہا کہ ہمارے متعلق تو یہ بھی مشہور کیا گیا ہے کہ یہاں NESمدد کریں) بھائی ہوئی ہیں حالانکہ ہم بار بار اسے انکار کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ حکومت تلاشی وغیرہ سے اس کے متعلق تسلی کرلے۔اسے علم ہو جا ئیگا کہ یہ بات غلط ہے۔اس پر سپرنٹنڈنٹ کتاب پولیں نے کہا کہ ایسی چیزیں کہیں تلاشی سے بھی مل کرتی ہیں ؟ ہم نے کہا کہ ہمارا سے جانے کے بعد یہ آپ ان کو نکالی ہی لیں گے۔اس پر انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ساتھ سے بنائیں گے۔ہم نے کہا کہ ہم اس کا کیا جواب دیں۔ہمارا معمولی سامان تو لے جانے نہیں دیا بھاتا MINES کو ہم کس طرح سے بھائیں گے۔دوران گفتگوی ملڑی میجر جو بعد میں آکر مجلس میں شامل ہو گیا تھا، اور مجسٹریٹ صاحب علاقہ نے پو چھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ٹرانسمیٹر ہے۔ان سے کہا گیا کہ ہم علف کھاتے ہیں اور اس کے متعلق تحریر دینے کو تیار ہیں کہ ہمارے پاس کوئی ٹرانسمیٹر نہیں " د را خاور اکتوبر کو سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے جماعت کے ایک نمائندہ سے کہا کہ اگر کوئی واقعہ مراد پر ہو گیا تو قادیان کے ہر شخص کو مار دیا بھائے گا۔: شکسته خاطر :