تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 346 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 346

۳۴۵ یعنی تم لوگوں نے پاکستان میں ہماری ایک کمپنی کا صفایا کردیا ہے۔۲۹ تنبوک استمبر کو امرتسر میں سکھ لیڈروں کی ایک کا نفرنس ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ قادیان دانوں کو نکلتے نہیں دیا جائے گا۔سول اور فوجی افسروں کی یہ دھمکیاں در اتمام تر این فیلم وستم کی بے شمار کاروائیوں کے ساتھ متوازی چل رہی تھی بالآخر قادیان پرحملہ کے خونی واقعا پر منتج ہوئیں۔جن کی تفصیل گزر چکی ہے، بھارتی حکام کا خیال تھا کہ سر اکتوبر کا دن احمدیوں کے انخلاء کے بارہ میں ایک فیصلہ کن دن ثابت ہوگا اور امدیوں کو بہر حال اپنا مرکز چھوڑنا پڑے گا۔لیکن کئی گھنٹوں کے حملہ کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ اگرچہ وہ قادیان کی بیرونی آبادی کو ایک مقام میں محصور کرنے میں کامیاب ضرور ہو گئے ہیں۔لیکن مرکزی حلقہ ابھی تک سکھ جنتوں اور ملٹری اور پولیس کی سفاکیوں اور چہرہ دستیوں کے باوجود اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے پوری طرح ثابت قدم ہے تو ان میں غم و غصہ کی ایک نئی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اپنی انتظامی سرگرمیاں اور بھی زیادہ تیز کر دیں۔چنانچہ حملہ کے تیسرے دن یعنی دوہ نادار اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کی امیر مقامی صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب سے ملاقات ہوئی کیس کی تفصیل صاحبزادہ صاحب کے الفاظ میں درج ذیل کی بھاتی ہے :- پر یوں ڈپٹی کمشنر نے پیغام بھیجا کہ میں منا چاہتا ہوں کیں ، مرزا عبدالحق صاحب اور مکرم ملک غلام فرید صاحب کو ساتھ لے کر ان کو ملنے گیا۔ڈپٹی کمشنر صاحب مجسٹریٹ صاحب علاقہ کے ساتھ شیخ رحمت اللہ صاحب کے مکان محلہ دارالعلوم میں ٹھہرے ہوئے تھے۔میر اول روز روز کے مظالم اور وعدہ خلا نیوں کو دیکھا پھرا ہوا تھا۔باوجودیکہ حضور کی ہدایت ہے کہ افسروں سے ادب اور نرمی سے ملو۔مجھ سے کچھ نہ کچھ تلخی ضرور ہوگئی۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا آپ کو کیا تکلیف ہے میں نے کہا کوئی ایک تکلیف ہو تو بتائی اور اگر کسی کی نیت ہماری تکالیف کو دور کرنے کی ہو تو اس کا ذکر بھی کہ میں اس کے بعد تفصیل سے اپنی حالت بتائی ، ڈپٹی کمشنر صاحب نے پو چھا کہ اب اپنے متعلق آپ کا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا کہ آپ کا ارادہ ہمارے متعلق کیا ہے ؟ کہنے لگے ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ آپ یہاں رہیں۔میں نے کہا کہ آپ کے چاہنے کی بات نہیں۔یہ فرمائیں کہ گورنمنٹ کیا چاہتی ہے۔کہنے لگے کہ میں ہی گورنمنٹ ہوں۔یکی اس وقت تیزی میں تھا میں نے کہا کہ آپ گو رنمنٹ نہیں۔آپ کچھ بھی نہیں۔کہنے لگے کہ آپ کس کو گورنمنٹ کہتے ہیں۔میں نے کہا کہ مشرقی پنجاب کے ہوم منسٹر صاحب اگر ہمیں لکھ دیں کر دہ نہیں رہنے دینا چاہتے ہیں تو ہم ان پر اعتبار کریں گے۔ان کے نیچے کسی افسکی