تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 345
علق نے اپنی لمبی اور طویل گفتگو میں صاف صاف بتایا کہ حکومت کی پالیسی اس وقت ڈپٹی کمشنر صاحب کے سپرد نہیں۔بلکہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کے سپرد ہے جو اس بات پر لکھے ہوئے ہیں کہ خواہ کچھ کرنا پڑے قادیان کے احمدیوں کو بہر حال نکال کر ہی دم لیں گے۔نیز کہا کہ حکومت کا خیال ہے احمدیوں کے پاس کافی اسلحہ ہے۔اور انہوں نے قادیان کے اردگرد سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں۔اور وہ اپنی عورتوں اور بچوں کو نکالنے کے بعد مقابلہ کریں گے اور آخر میں ان سرنگوں ہی سے (معاذ اللہ ) قادیان کو اڑا دیں گے۔جناب مجسٹریٹ صاحب علاقہ نے اس عجیب و غریب اور ناقابل فہم انکشاف کے ثبوت میں ایک انتہائی مضحکہ خیز اور خلاف حقیقت بات کا سہارا لیا یعنی انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلہ کے طور پیر احمدیوں نے اپنی گندم ملانی شروع کردی ہے۔عالی شکر یہ بات بالکل خلاف واقعہ تھی۔جناب مجسٹریٹ صاحب موران گفتگو میں یہ ہی کہا کہ مرزا صاحب یعنی حضرت خلیفتہ ایسی نشانی ، پاکستان کے معافی ہو گئے تھے۔لہذا اب انہیں پاکستان ہی میں رہنا چاہیئے۔آخرمیںکہا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اور پو لیں آپ سے مطالبہ کہتی ہے کہ آپ نا جائز اسلحہ حکومت ے حوالہ کر دیں را در گندم کے ذخیر سے تباہ نہ کریں۔احمدی نمائندوں نے رجو یہ سب فرضی کہانی اور فسانہ نہایت حیرت و استعجاب اور صبر و عمل سے سُن رہے تھے، مجسٹریٹ صاحب عمل تہ کو یقین دلایا کہ ہم لوگ ایک با اصول اور امن و رواداری کو اپنا مذہبی فریضہ قرار دینے والی جماعت کے افراد ہیں۔نہ تو ہمارے پاس کوئی نا جائز اکر ہے۔ہم نے سرنگوں کا کوئی جال بچھا رکھا ہے اور نہ گندم کو چلانے کا کوئی واقعہ اب تک پیش آیا ہے اور نہ آئندہ کوئی ایسی صورت ہمارے بر نظر ہے۔نیز صاف طور پر بتایا کہ جماعت احمر یکہ کسی حالت میں بھی حکومت وقت کے آئین کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گی اور نہ ایسا کرنا اس کے مسلمہ مذہبی اصولوں اور عقیدوں کی رو سے جاتی ہے۔البتہ حکومت پر یہ اخلاقی فرض ضرور عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی پالیسی سے ہمیں مطلع کرے اور واضح طور پر یہ بتائے کہ وہ ہمارے متعلق آئندہ کیا ارادہ رکھتی ہے ؟ ۲۸ تبوک استمبر کو ایک لیفٹینٹ کرنل ، ایک انگریز میجر اور ایک کو میجر صاحبزادہ مرزا دارد احد صاحب اور کیپٹن وقیع الزمان صاحب سے ملے اور انہوں نے نہایت تندو تیز لب ولہم میں کہا کہ تم لوگ یہاں سے کیوں نہیں جاتے؟ بلکہ ایک نے تو اپنے غلیظ و غضب کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ : - IN PAKISTAN YOUR PEOPLE BLOODY HAVE WIPED- >> OUT ONE OF OUR COMPANIES