تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 344 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 344

بریگیڈیئر صاحب نے دوران گفتگو اپنی پہلی باتوں کو دہرایا۔حضرت میاں صاحب نے نہایت تحمل اور وقار سے ان کی ایک ایک شکایت کا تسلی بخش جواب دیا۔البتہ جہاں تک ہوائی جہازوں کے پروانہ کرنے کا تعلق تھا آپ ے فرمایا کہ ہم باہر کے علاقہ سے بالکل قطع ہیںاور ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ ہم ان تک یہ ہدایت یا خواہش پہنچا سکیں۔کہنے لگے ہاں یہ درست ہے میں ایسا انتظام کر دوں گا کہ آپ کی طرف سے لاہور میں یہ اطلاع پھلی جائے کہ بہانوں کو اس علاقہ میں پردا نہ کرنے سے روک دیا جائے۔اس روز پھر یہ رپورٹ موصول ہوئی کہ قادیان چوکی کے انچارج صاحب نے جماعت کے ایک ذمہ دار کارکن سے خاص طور پر یہ کہا کہ جماعت احمدیہ نے حمایت پاکستان کے کے سخت غلطی کی ہے اور اسی لئے بھاتی حکومت احمدیوں کی مخالف ہو رہی ہے۔نیز کہا کہ اب یہاں ضلع میں کوئی مسلمان نہیں رہ سکتا۔۱۹ ماہ تبوک ارستمبر کو پاکستان سے ایک ہوائی جہانہ قادیان کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے آیا۔مری اور پولیس نے جونہی اسے پر دانہ کرتا دیکھا۔فائرنگ شروع کر دی اور چونکہ فوجی کپتان کو یہ خبر دی گئی تھی کہ جہانہ سے ایک تعقیلی تعلیم الاسلام کالج پر پھینکی گئی ہے اس لئے فوجی کپتان ذورا کالج میں پہنچا اور ہاں موجود اشخاص سے کہا کہ ہمارے حکم کے خلاف جہا نہ آیا ہے اس لئے تحصیل بھی ہمارے حوالہ کر داور یہ عمارت بھی شام تک خالی کردو۔ڈیوٹی پر موجود کارکن نے کہاکہ میں نے کوئی تھیلی نہیں دیکھی اور نہ میں اس عمارت کا زمہ دار افسر ہوں۔آپ پرنسپل صاحب کا لج کو جو حکم دیا ہے دیں۔چنانچہ کیپٹن نے ایک احمدی جوان دخواجہ محمد امین صاحب) کو جیپ دے کر شہر کے اندر بھجوایا کہ پرنسپل صاحب کو جا کر لے آؤ۔اور حکم دیا کہ ہم یہاں ایک پیکٹ رکھنا چاہتے ہیں۔پرنسس صاحب چونکہ ان دنوں رخصت پر تھے اسے ان کی طرف سے سیکر ٹری کالج کمیٹی کم ملک غلام فرید صاحب اور مکرم سید محمود اللہ شاہ صاحب کیپٹن کے پاس پہنچے اور اسے بتایا کہ بہانہ ہمارہ انہیں پاکستان سے آیا ہے۔ہاں ہم اپنی خواہش لکھ کر دے دیتے ہیں مجھے آپ پاکستان میں پہنچا دیں کہ آئندہ جہاز نہ آیا کر ے۔چنانچہ کیپٹن اس گفتگو سے متاثمہ ہوا۔نیز معذرت کی کہ میں نے کالج کی عمارت کے متعلق یو نہی پڑ کہ بات کر دی اور جماعت احمدیہ کی تعریف کی کہ بہت متحمل مزاج اور بہت منظم ہے۔مگر اسی متحمل مزاج جماعت کے خلاف حکومت کی مشیری روز بروز تیز ہوتی بھارہی تھی۔چنانچہ ۱۲۶ ماه تبریک رستمبر کو 1 بجے کے قریب مسٹر سونی صاحب مجسٹریٹ علاقہ قادیان آئے۔مکرم مرزا عبد الحق صاحب اور مکرم سید محمود اللہ شاہ صاحب جماعت کی نمائندگی کے لئے خود ان کے بلانے پر ان کے پاس گئیہ ٹیمیٹریٹ صاحب