تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 336
۳۳۵ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- آج ہر احمدی سمجھے لے کہ اب احمد بیت پر ایک نیا دور آیا ہے اور اب اسے اللہ تعالے کے ساتھ ایک نیا عہد کرنا پڑے گا۔میر نے دیک آج سے ہر مخلص احمدی کا خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں رہتا ہو یہ فرض ہے کہ وہ فوجی فنون سیکھے۔اگر عارضی طور پر وہ فوجی ملات اختیار کر سکتا ہو تو عارضی طور پر اور اگر مستقل طور پر فوجی ملازمت اختیار کر سکتا ہو تو مستقل طور پر فوجی ملازمت اختیار کرے کیا پتہ کہ کس وقت پاکستان پر حملہ ہو جائے اس وقت ہمارا پہلا فرض ہوگا کہ ہم پاکستان کی پوری پوری مدد کریں۔ہندوستان میں جو احمدی ہوں گے ان کے متعلق تو یہی قانون ہو گا کہ وہ ہندوستان یونین کے فرمانبردار رہیں۔مگر جو پاکستان میں رہنے والے ہوں گے ان کا فرض ہوگا کہ وہ حکومت پاکستان کی مدد کریں اور دوسروں سے زیادہ جوش اور اخلاص اور ہمت سے پاکستان کی خفت کریں اور اس ملک کو دشمن کے حملوں سے پوری طرح محفوظ رکھیں تا کہ اس ملک سے اسلام کا نشان مٹ نہ بھائے اور ایک ہزار سال کے بعد اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہو جائے۔اگر ایسا ہوا تو یہ بڑی بھاری شرم کی بات ہو گی۔بڑی بھاری ذلت کی بات ہوگی۔بڑی بھاری رُسوائی کی بات ہوگی۔آج محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی امانت ہمارے ہاتھ میں ہے، اور اس امانت کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے لئے ذکر الہی کی تحریک ۳- حضرت اقدس نے ارماہ اور اکتوبر میں کولیس عرفان میں ایک پر معارف تقریر کے ذریعہ احمدیوں کو ذکر الہی اور نماز باجماعت کی خاص تحریک کی۔چنانچہ فرمایا۔" ہمیں تو ایسے رنگ میں اپنے اعمال کو ڈھالنا چاہیے جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کر دے۔پھر نماز سے پہلے اور پیچھے ذکر الہی کرنے میں بھی بہت غفلت سے کام لیا جاتا ہے۔نماز سے پہلے جو وقت امام کے انتظار میں گزارا جاتا ہے اس کو بالعموم ادھر ادھر کی باتوں میں گنوا دیا جاتا ہے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے له " الفضل" دار الغاور اکتوبر ۱۳۳۶ برش صفحه ۲ کالم ۳-۴